تازہ ترین
آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کیلئے بڑے خطرات کی نشاندہی کردیخیرپور میں لاکھوں روپے راشن کے 4 ٹرک لوٹ لیے گئےصوابی بڑی تباہی سے بچ گیا، 4 دہشتگرد گرفتارعمران خان کا جیل بھرو تحریک کا اعلاندوران حراست جگائے رکھا گیا، شیخ رشیدآئی ایم ایف ڈیل: سگریٹس، کولڈڈرنکس اور جہازوں کے ٹکٹس مہنگے ہونے کا امکانفواد چوہدری گرفتاری کے وقت نشے کی حالت میں تھے، میڈیکل رپورٹایم کیو ایم نےضمنی الیکشن کیلئے27 نام شارٹ لسٹ کرلیےپاکستان میں بندش پر وکی پیڈیا کا بیان سامنے آگیاکراچی میں فرسٹ انٹرنیشنل ٹیچرز ایجوکیشن کانفرس کا انعقادشیخ رشید نے اپنی کراچی منتقلی روکنے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاپنجاب اور خیبرپختونخوا میں تمام بلدیاتی نمائندے معطلشاہ محمود کا آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے متعلق حکومت کو مشورہنواب شاہ: بیٹوں نے باپ پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دیگھی، دالیں، انڈے، لہسن، چاول، چینی، مرغی اور پیٹرول سمیت 32 اشیا مہنگی ہو گئیںنیپالی بزنس کونسل کی جانب سے دبئی میں نیٹ ورکنگ عشائیہ کا اہتمامدانش پرائمیر کرکٹ لیگ سیزن ون کا سہرا سیگماء ایسوسیٹ نے اپنے سر سجا لیا۔پشاور دھماکہ: حملہ آور کا جوتا اور ہیلمٹ بھی مل گیاجامعہ کراچی: انجمن اساتذہ کا تدریسی امور کے بایئکاٹ کا اعلانفیس بک کو روزانہ کتنے افراد استعمال کرتے ہیں؟

اوپن مارکیٹ میں ڈالر 243 روپے پر پہنچ گیا

ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کے فکس ریٹ کو ختم کرنے کے بعد روپے کی قدر میں کمی ہو گئی ہے۔

چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان کے دفتر سے جاری نوٹس کے مطابق 11 بجے کے قریب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی تجارت 243 روپے پر ہو رہی تھی، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 0.93 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب 60 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں، تاہم اب بھی صورتحال پریشان کن ہے کیونکہ ان ذخائر سے صرف 3 ہفتوں کی درآمدات ہوسکتی ہیں۔

ڈالرز کی قلت کے سبب انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ ترسیلات زر قانونی بینکنگ کے بجائے گرے مارکیٹ سے آ رہی ہیں۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ایک جانب جہاں  پاکستان کی فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کو امید ہے کہ بلیک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کم ہو گی وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس اندیشے کا بھی اظہار کیا گیا معاملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے۔

اس حد تک اکثریت متفق نظر آئی کہ ڈالر کا سرکاری ریٹ بڑھ جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے بعد ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے ڈالر کی قیمتوں کو مستحکم رکھا گیا تھا جبکہ حکومت کی جانب سے بھی انٹربینک ریٹ کو مستحکم رکھا جا رہا تھا تاکہ مارکیٹ میں افراتفری کی صورتحال پر قابو رکھا جا سکے۔

ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا مقصد ڈالر کی بلیک مارکیٹ، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں موجود ڈالر کی قیمتوں میں فرق کو ختم کرنا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز  ایکسچینج کمپنیوں نے ملک میں ڈالر کی کمی، بڑھتے ہوئے ریٹ اور موجودہ غیریقینی صورت حال کے سبب ڈالر کا فکس ریٹ کیپ ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »