تازہ ترین
آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کیلئے بڑے خطرات کی نشاندہی کردیخیرپور میں لاکھوں روپے راشن کے 4 ٹرک لوٹ لیے گئےصوابی بڑی تباہی سے بچ گیا، 4 دہشتگرد گرفتارعمران خان کا جیل بھرو تحریک کا اعلاندوران حراست جگائے رکھا گیا، شیخ رشیدآئی ایم ایف ڈیل: سگریٹس، کولڈڈرنکس اور جہازوں کے ٹکٹس مہنگے ہونے کا امکانفواد چوہدری گرفتاری کے وقت نشے کی حالت میں تھے، میڈیکل رپورٹایم کیو ایم نےضمنی الیکشن کیلئے27 نام شارٹ لسٹ کرلیےپاکستان میں بندش پر وکی پیڈیا کا بیان سامنے آگیاکراچی میں فرسٹ انٹرنیشنل ٹیچرز ایجوکیشن کانفرس کا انعقادشیخ رشید نے اپنی کراچی منتقلی روکنے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاپنجاب اور خیبرپختونخوا میں تمام بلدیاتی نمائندے معطلشاہ محمود کا آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے متعلق حکومت کو مشورہنواب شاہ: بیٹوں نے باپ پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دیگھی، دالیں، انڈے، لہسن، چاول، چینی، مرغی اور پیٹرول سمیت 32 اشیا مہنگی ہو گئیںنیپالی بزنس کونسل کی جانب سے دبئی میں نیٹ ورکنگ عشائیہ کا اہتمامدانش پرائمیر کرکٹ لیگ سیزن ون کا سہرا سیگماء ایسوسیٹ نے اپنے سر سجا لیا۔پشاور دھماکہ: حملہ آور کا جوتا اور ہیلمٹ بھی مل گیاجامعہ کراچی: انجمن اساتذہ کا تدریسی امور کے بایئکاٹ کا اعلانفیس بک کو روزانہ کتنے افراد استعمال کرتے ہیں؟

ناکام سرکاری ادارے فروخت کر کے 600 ارب روپے سالانہ بچائے جائیں۔

ڈالر کی قیمت کو مارکیٹ میکینزم کے تابع کیا جائے۔
تاخیر سے صورتحال بہتر نہیں ہو گی، مزید بگڑ جائے گی۔ میاں زاہد حسین
(24 جنوری 2023)
نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت سخت فیصلوں کو اپنی سیاسی موت سمجھ رہی ہے اس لئے اس مشکل وقت میں حکومت کو اعتماد فراہم کرنا ضروری ہے۔ ناکام سرکاری ادارے فروخت کرکے چھ سو ارب روپے سالانہ کے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ ملک میں سرمائے کی شدید قلت ہے مگر اسکے باوجود ناکام سرکاری کمپنیوں پر اربوں روپے لٹائے جا رہے ہیں۔ اگر ناکام اداروں کو فوری طور پر فروخت نہیں کیا جا سکتا ہے تو ان پر تالا ڈال کر کئی سو ارب روپے کے نقصان سے بچنا تو ممکن ہے بجلی و گیس کی چوری اور لائن لاسز سے متعلق سخت فیصلے ملکی سلامتی کے لئے ناگریز ہو چکے ہیں۔ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے عوام کو سستی اشیاء فراہم کرنے کا تجربہ بھی ناکام ہوچکا ہے اورحکومت کے لیے بدنامی کا سبب بن رہا ہے یوٹیلیٹی سٹورزکواربوں روپے کی سبسڈی دینے کے بجائےغریب عوام کو ٹارگٹڈ کیش سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ وہ مارکیٹ سے اپنی مرضی کی دوکانوں سےاشیاء خرید سکیں۔ ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کی وجہ سےاس وقت ڈالر انٹر بینک، اوپن مارکیٹ اور حوالہ کے ذریعے تین مختلف نرخوں پر فروخت ہو رہا ہے جس کی وجہ سے اس سال ایکسپورٹ اور ترسیلات زر میں 8 سے 10 ارب ڈالر کی کمی کا امکان ہے۔ امپورٹ کو روکنے سے کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ کم ہوگا مگر اس سے ایف بی آر کے ریونیومیں چھ سے آٹھ سو ارب روپے کی کمی کا امکان ہے جس کے تدارک کے لیے نئے ٹیکس لگانا پڑیں گے۔ منی بجٹ مری ہوئی عوام کو مارنے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آئی ایم ایف کے تجویز کردہ اہم فیصلوں میں تاخیر سے ادائیگیوں اور آمدن میں عدم توازن بڑھ رہا ہے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور عوام کے کرب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دوست ممالک اور عالمی ادارے پاکستان کی وعدہ خلافیوں کے ریکارڈ اور اہم فیصلوں میں تاخیر سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں اس لئے ان کا لب و لہجہ سخت اور مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے تمام مطالبات پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے ضروری ہیں۔ اب ہمیں مسلسل بھیک مانگنے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ حکومتی ادارے زبوں حالی کی تصویر بنے ہوئے ہیں جو عوام کو کچھ ڈلیور نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس سے صحت، تعلیم، پانی اور روزگار کے لئے ترستی ہوئی عوام اور مسائل سے دوچار کاروباری برادری کی پریشانی بڑھ رہی ہے اورعوام کا غصہ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »