تازہ ترین
انٹر بینک: ڈالر کی قیمت میں چند پیسہ کمیگوگل میپس میں بڑی تبدیلی جو بیشتر افراد کو پسند نہیں آئیملک میں سونے کی قیمت میں اضافہبرائل مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافہروپے کی قدر بحال ہونے لگی ڈالر مزید سستاانٹر بینک میں ڈالر مزید سستاموسم سرما میں ادرک لینا کیوں فائدہ مند ہے؟ کھانے کے طریقے جانیںنواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشیورلڈکپ کون جیتے گا؟ بڑی پیش گوئیپنجاب بھر میں ماسک پہننا لازمی قرارملک کا ماحول اس وقت انتخابات کے لیے سازگار آصف زرداریملک میں سونے کی قیمت میں کمیواٹس ایپ چینلز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیاں فیچر متعارفڈالر کی قیمت میں معمولی کمیملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ریاست بچ گئی سیاست بھی بچ جائے گی، شہبازشریفمہنگائی کے مارے عوام پر بجلی بم گرانےکی تیاری مکملپیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکانگوگل سرچ انجن کا ایک نیا دلچسپ فیوچر متعارفعالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان

ارشوں سے کروڑوں افراد متاثرہورہے ہیں۔

مہنگائی عالمی ریکارڈ بنا رہی ہے۔ فوڈ سیکورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
شرح نموجو پہلے ہی کم ہے مذید کم ہوجائے گی۔ میاں زاہد حسین

نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ تباہ کن بارشوں سے کروڑوں افراد متاثرہورہے ہیں۔ انفراسٹرکچراوراہم فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، کاشتکارپریشان ہیں، ہزاروں گھراوردکانیں کھنڈربن گئے ہیں۔ بارشوں سے فوڈ سیکورٹی کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ جی ڈی پی جو پہلے ہی کم ہے مذید متاثرہورہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ناجائزمنافع خورسیلاب کی تباہ کاریوں سے فائدہ اٹھا کرچیزیں مہنگی کررہے ہیں جن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ عالمی بے یقینی کے بعد اب مقامی عدم استحکام بھی صورتحال کوایسے حالات میں متاثرکررہا ہے جب ملک میں مہنگائی عالمی ریکارڈ بنا رہی ہے۔ عالمی سطح پرشرح سود بڑھ رہی ہے جس سے امریکی ڈالرمستحکم ہوکرترقی پذیر ممالک کی کرنسی کو بے قدرکررہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں سال رواں میں مہنگائی کم ہونے کا امکان نہیں ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائردوبارہ کم ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں کساد بازاری سے برآمدات متاثرہورہی ہیں جو کہ جون کے مقابلے میں جولائی میں 23 پرسینٹ کم ہوئی ہیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی صورت میں قرضوں کا راستہ ہموارہوجائے گا جس سے معیشت کووقتی سہارا ملے گا مگرمعیشت کو بہتربنانے کے لئے قلیل اورطویل المدتی اصلاحات ضروری ہیں جس کی جانب توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ مرکزی بینک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائرسولہ ارب ڈالرتک بڑھ جائیں گے مگرایسا ہونامشکل لگتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ قرضے کے پیسے سے خریدا گیا اقتصادی استحکام کسی کام کا نہیں ہوتا۔ اس کے لئے پیداوار، برآمدات اورغیرملکی سرمایہ کاری کوبڑھانا ہوگا جبکہ سماجی شعبہ میں بھاری سرمایہ کاری کرنا ہوگی

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »