تازہ ترین
پاکستان بزنس گروپ کا بجٹ پر مباحثہ،عمران خان اداروں پر تنقید کر کے کامیابی حاصل نہیں کرسکتے، بلاول بھٹوملک میں سونا مہنگا ہوگیاقومی اسمبلی نے پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار 50 روپے اضافےکی منظوری دیدیکراچی ائیر پورٹ کے برقی زینوں کی تبدیلی کے کام کا آغاز کردیا گیاآئندہ مالی سال کا فنانس بل: موبائل فون مزید مہنگے ہوگئےاساتذہ کی کمی کے باعث گیارہ ہزار اسکولوں کا بند ہونا شرمناک عمل ہے۔ محمدعظیم صدیقیروپےکی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیاکراچی میں سی این جی تین دن کیلئے بند کرنے کا اعلانذو الحجہ کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگاطویل لوڈشیڈنگ، کے الیکٹرک حکام کا اجلاس طلبشہباز اور بلاول اہم ملاقات، داخلی و خارجہ معاملات پر تفصیلی بات چیتخیبرپختونخوا: نسوار مہنگی ہونے پر شہری نے پولیس میں شکایت درج کرادیکراچی اور حیدرآباد میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خطرہبجلی کا شارٹ فال 7 ہزار میگاواٹ، کراچی میں 22 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ، ہنگامے، فائرنگ، لاٹھی چارج، خاتون جاں بحقکراچی میں یکم جولائی سے بارشوں کا امکانایف بی آر: رواں برس 6 ہزار ارب روپے ٹیکس کی وصولیکراچی:بجلی بندش کےخلاف احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، لاٹھی چارج اور پتھراوآئی ایم ایف سے 1 نہیں 2 ارب ڈالر ملیں گے: وزیرِ اعظم شہباز شریفپاکستان دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکل چکا: مفتاح اسماعیل

مالی سال 23-2022 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جارہا ہے

اسلام آباد: اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوگیا جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل مالی سال 23-2022 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی بجٹ تقریرمسودے کے مطابق اگلے مالی سال تنخواہ دار طبقے کیلئے ماہانہ ایک لاکھ روپے تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد پر لائی جائے گی، 1600 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی کابینہ اور سرکاری اہلکاروں کی پیٹرول کی حد کو 40 فیصد کم کیا جائے گا۔

بجٹ دستاویز کے مطابق حکومتی خرچ پر لازمی بیرونی دوروں کے علاوہ تمام دوروں پر پابندی ہوگی، آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 5 فیصد رکھا گیا ہے ، جی ڈی پی کو 67 کھرب سے بڑھا کر 78.3کھرب تک پہنچایا جائے گا۔

بجٹ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال پی ایس ڈی پی کے اخراجات 550 ارب روپے ہوں گے، رواں مالی سال قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 3144 ارب روپے خرچ ہوں گے، اگلے سال جی ڈی پی میں ٹیسکز کی شرح 9.4 فیصد تک لائی جائے گی۔

امپورٹڈ لگژری کاروں اورمقامی سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق 4400 ارب روپے کی سب سے بڑی رقم قرضوں اور سود کی واپسی کیلئے مختص کی گئی ہے جبکہ بجٹ خسارے کا تخمینہ 4800 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق تجارتی خسارے کا تخمینہ27 ارب80 کروڑ ڈالر ،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے لحاظ سے 3.7 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ 800 ارب روپے اوردفاع کیلئے 1523ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »