تازہ ترین
پاکستان بزنس گروپ کا بجٹ پر مباحثہ،عمران خان اداروں پر تنقید کر کے کامیابی حاصل نہیں کرسکتے، بلاول بھٹوملک میں سونا مہنگا ہوگیاقومی اسمبلی نے پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار 50 روپے اضافےکی منظوری دیدیکراچی ائیر پورٹ کے برقی زینوں کی تبدیلی کے کام کا آغاز کردیا گیاآئندہ مالی سال کا فنانس بل: موبائل فون مزید مہنگے ہوگئےاساتذہ کی کمی کے باعث گیارہ ہزار اسکولوں کا بند ہونا شرمناک عمل ہے۔ محمدعظیم صدیقیروپےکی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیاکراچی میں سی این جی تین دن کیلئے بند کرنے کا اعلانذو الحجہ کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگاطویل لوڈشیڈنگ، کے الیکٹرک حکام کا اجلاس طلبشہباز اور بلاول اہم ملاقات، داخلی و خارجہ معاملات پر تفصیلی بات چیتخیبرپختونخوا: نسوار مہنگی ہونے پر شہری نے پولیس میں شکایت درج کرادیکراچی اور حیدرآباد میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خطرہبجلی کا شارٹ فال 7 ہزار میگاواٹ، کراچی میں 22 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ، ہنگامے، فائرنگ، لاٹھی چارج، خاتون جاں بحقکراچی میں یکم جولائی سے بارشوں کا امکانایف بی آر: رواں برس 6 ہزار ارب روپے ٹیکس کی وصولیکراچی:بجلی بندش کےخلاف احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، لاٹھی چارج اور پتھراوآئی ایم ایف سے 1 نہیں 2 ارب ڈالر ملیں گے: وزیرِ اعظم شہباز شریفپاکستان دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکل چکا: مفتاح اسماعیل

مالیاتی ایمرجنسی کی افواہیں پھیلانے والے ملک دشمن ہیں، کاروائی کی جائے۔

آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیرسرمایہ کاروں کو پریشان، روپے کو کمزورکررہی ہے غیرملکی سرمائے کی پاکستان آمد تک روپے کا مستحکم ہونا مشکل ہے۔ میاں زاہد حسین

نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مالیاتی ایمرجنسی کی افواہیں پھیلانے والوں نے معیشت کوزبردست نقصان پہنچایا ہے جن کے خلاف کاروائی کی جائے۔ حکومت کی جانب سے مالیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کی تردید کے باوجودصورتحال معمول پرنہیں آرہی ہے جوتشویشناک ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر نے روپے کا بھرکس نکالنا شروع کردیا ہے کیونکہ سرمایہ کاراب تسلیوں پرکان دہرنے کوتیارنہیں ہیں اوروہ یقینی گارنٹی چاہتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کرنسی مارکیٹ بے چینی کا شکارہے جس کی وجہ سے گرتے ہوئے ڈالرنے دوبارہ قدم جماکر روپے کوپچھاڑنا شروع کردیا ہے جوپریشان کن ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ اوربجلی کے نرخ بڑھانے کے بعد روپیہ مستحکم ہونا شروع ہوگیا تھا مگرافواہ سازی نے صورتحال کوبدل دیا ہے۔ حکومت معاملات کوبہتر بنانے کے لئے مذید بیانات نہ دے بلکہ آئی ایم ایف سے معاہدے کوحتمی شکل دے اورچین سے فوری طورپر قرض لے۔ جب تک غیرملکی سرمایہ پاکستان نہیں آئے گا روپے کا ڈالرکے مقابلہ میں مستحکم ہونا مشکل ہے۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا رواں مالی سال میں پاکستان نے بیس ارب ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات، 9 ارب ڈالر کے فوڈ آئٹمز، چار ارب ڈالر کا پام آئل، دو ارب ڈالر کی کاٹن، ایک ارب ڈالر کی چائے اور چار ارب ڈالر کی گاڑیاں امپورٹ کی ہیں ان اعداد و شمار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان کا موجودہ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ امپورٹ کی وجہ سے ہے موجودہ حکومت کو غیر ضروری درآمدات میں خاطرخواہ کمی کرنی ہوگی جبکہ ملک میں زراعت کو فروغ دے کر فوڈ آئٹمز کی امپورٹ کو روکنا ہوگا۔ حالیہ مشکل اقتصادی حالات کی وجہ سے درآمدی اورکاروباری لاگت بڑھ رہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے لئے بھی بڑی مقدارمیں تیل منگوانا پڑے گا جس سے اخراجات بڑھیں گے جوخزانے پربوجھ بڑھادے گا۔ بین الاقوامی منڈی میں ایل این جی کی قیمت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے جو پریشان کن ہے مگران تمام مسائل کے باوجوداقتصادی صورتحال اتنی خراب نہیں ہے جیسا کہ کرنسی مارکیٹ میں سمجھا جا رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائراس وقت نوارب ڈالر ہیں جبکہ ماضی سے اس سے کہیں کم رہ چکے ہیں اورملک جلد موجودہ مشکلات سے باہرنکل آئے گا۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »