تازہ ترین
ناقص پلاننگ اور تاخیر سےکیےگئے فیصلے سانحہ مری کی اہم وجہ ہیں، تحقیقاتی رپورٹکراچی میں تیسری شاہ اکیڈمی کرکٹ پریمئیر لیگ شروع، چار ٹیموں کے درمیان دلچسب مقابلےپانچ شہروں سے متعلق ریڈالرٹ جاری کیا ہوا ہے، شیخ رشیدکنزیومر موومنٹ غریب عوام کی داد رسی کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرے، محمد حسین محنتیمسلم ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظمپریانتھا کو کس نے قینچی ماری اور کس نے لاش جلائی؟ 7 مرکزی ملزمان کا پتا چل گیالاہور میں دھماکا، ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمیایران کے ساتھ مذاکرات پر ہار ماننے کا وقت نہیں، امریکی صدرپاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر سارہ گل نے ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، سعید غنیلتا منگیشکر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرعلاج، ڈاکٹروں کی دعا کی اپیلحکومت چھوٹے کاروبار کیلئے لیز پر زمین فراہم کرے گی، وزیراعظم کا اعلاناندرون ملک سفر پرپاکستانیوں کا گھیرا تنگ، فضائی ٹکٹ پر شناختی کارڈ نمبر درج ہوگاپی ٹی آئی حکومت کے دعووں کے برعکس مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنادی ہےکراچی: ایف آئی اےکی میڈیسن مارکیٹ میں کارروائی، بھاری تعداد میں جعلی ادویات برآمدڈاکٹرطارق بنوری نے چیئرمین ایچ ای سی کا چارج دوبارہ سنبھال لیاکراچی میں بھی گدھوں کے گوشت کے استعمال کا خدشہنسلہ ٹاور کیس: بلڈرز نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لیکورونا کیسز: این سی او سی نے نئی پابندیاں نافذ کردیںشاہ رخ جتوئی کا اسپتال میں رہنےکا معاملہ، بلاول نے سندھ حکومت کو بری الذمہ قرار دیدیاممبئی میں لنگر انداز بھارتی جنگی بحری جہاز میں دھماکا، 3 اہلکار ہلاک

افسران کے تبادلے کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ کی افسران کو چارج نہ چھوڑنے کی ہدایت

افسران کے تبادلے پر وفاق اور سندھ کا تنازع برقرار ہے اور اب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تبادلہ کیے گئےافسران کو کسی صورت چارج نہ چھوڑنے کی تحریری ہدایت بھی کر ڈالی ہے۔

 اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے روٹیشن پالیسی وضع کی جس کے تحت کسی صوبے میں 10 سال سے زائد خدمات انجام دینےوالے وفاقی افسران کے تبادلے دوسروں صوبوں میں کیے جائیں، اس کے تحت نومبر کے اوائل میں سندھ میں طویل عرصےسے تعینات گریڈ 20 کے افسران کے تبادلے دوسرے صوبوں میں کیے گئے۔

تاہم وزیر اعلیٰ سندھ کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت، سندھ کو پہلے ہی افسران فراہم نہیں کر رہی اور جو ہیں انہیں بھیدیگر صوبوں میں بھیجا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق تبادلے کی زد میں آنے والے 6 ڈی آئی جیز جاوید اکبر ریاض، ثاقب اسماعیل میمن، نعمان صدیقی،عبداللہ شیخ، عمر شاہد اور نعیم شیخ نے چارج چھوڑ کر دوسرے صوبوں میں چارج سنبھال لیا تاہم سندھ پولیس کے ڈیآئی جی سکیورٹی مقصود میمن نے عہدے کا چارج نہیں چھوڑا ہے۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس سے تعلق رکھنے والے چار میں سے تین افسران سید حسن نقوی، کاظم جتوئی اور خالدحیدر شاہ نے بھی چارج نہیں چھوڑا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات پر ان تمام افسران کو چارج نہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ان سینیئر افسران کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »