تازہ ترین
ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد میں ظاہر ہونے والی علاماتسابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت میں ملک گیر مظاہروں کے بعد بیرون ملک بھی مظاہروں کا سلسلہ جاریعمران کے فونز چوری ہونے کا معاملہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز میں گمشدگی کے شواہد نہ مل سکےحکومت کا چیئرمین نیب کو ہٹانے کا فیصلہکراچی دھماکا: وزیراعظم کا وزیراعلیٰ کو فون، ہر ممکن تعاون کی پیشکشملک میں ڈالر 196 روپے کا ہوگیاآرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل، فیصلہ آج سنایا جائیگاخشک سالی میں گھرے چولستان کے باسی قطرہ قطرہ پانی کو ترس گئےکراچی کے علاقے کھارادر میں دھماکا،خاتون جاں بحق، 12 افراد زخمیکراچی کے علاقے کھارادر میں دھماکے کی اطلاعپانی کی قلت، دریائے سندھ بعض مقامات پر صحرا بن گیاسیسی میں کام کرنے والے نجی سیکورٹی گارڈز کی کم سے کم اجرت 25 ہزار کردی گئی: سعید غنیروپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری، آج کتنا مہنگا ہوا؟شیخ محمد بن زید سے شارجہ کے المرشدی قبیلے کے سربراہ قاسم المرشدی کی تعزیتعمران خان کے جان کے خطرے سے متعلق بیان پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکشعمران خان کی سیکیورٹی کیلئے پولیس، ایف سی کی بھاری نفری تعیناتادارہ مداخلت کرے، ٹیکنوکریٹ حکومت لائے اور ستمبر میں الیکشن کرائے: شیخ رشیدسلیکٹڈ وزیر اعظم سے نجات بیرونی سازش نہیں ، جمہوری عمل تھا، بلاولوزیراعظم شہباز شریف کی شیخ خلیفہ کی وفات پر یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے تعزیتنئی حکومت کے دعووں کے برعکس آٹا،گھی،گوشت اوردالیں سمیت بڑہتی ہوئی مہنگائی باعث تشویش ہے: محمد حسین محنتی

سینیٹ نے دوران حراست موت یا تشددکےخاتمے سے متعلق بل منظورکرلیا

دوران حراست موت یا تشددکےخاتمے اور سزا سے متعلق بل ایوان بالا (سینیٹ) نے منظور کرلیا۔

ایوان بالا نے پیپلز پارٹی کی سینیٹرشیری رحمان کابل منظورکیا جس کی وفاقی وزیر انسانی حقوق شیری مزاری نےبھی حمایت کی ۔

بل کے مطابق کسی خاتون کو کسی مرد کی تحویل میں نہیں دیاجائےگا، تشدد کے ذریعے حاصل بیان قابل قبول نہیںہوگا، جرم ناقابل سمجھوتا اور نا قابل ضمانت ہوگا،متاثرہ شخص کا عدالت طبی اور نفسیاتی معائنہ کرائےگی اورتشدد ثابت ہونے کی صورت میں معاملہ سیشن کورٹ کے سپرد کیاجائےگا جو روزانہ کی بنیادپر ٹرائل کرکے 60 روز کےاندر فیصلہ سنائےگی ۔

عدالت متعلقہ سرکاری ملازم کی معطلی یا تبادلےکی سفارش کرےگی، فیصلےکے خلاف اپیل 30 روز کے اندرکی جائےگی ۔

بل کے مطابق تشددکرنےوالے سرکاری ملازم کو 10 سال تک قابل توسیع قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، جسسرکاری ملازم کی ڈیوٹی تشدد روکنا ہے اور وہ اس میں ناکام ہو تو اسے 5 سال تک قابل توسیع قید اور 10 لاکھ روپےجرمانہ ہوگا، جرمانے کی رقم متاثرہ شخص کو ادا کی جائےگی۔

دوران حراست موت کاذمہ داربننےوالے اورجنسی تشدد کرنےوالے سرکاری ملازم کو قانون کے مطابق سزا اور 30 لاکھروپے جرمانہ ہوگا ۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »