تازہ ترین
آئی جی سندھ مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹا دیا گیاچیئرمین پاکستان بزنس گروپ فراز الرحمان کی شیخ خلیفہ کی وفات پر اظہار تعزیت کے لئے قونصل جنرل عرب امارات سے ملاقاتآباد اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے باہمی اشتراک سے نئے گریجویٹ انجینئرز کی انٹرن شپ کا آغازامریکی کانگریس کی 50 سال میں پہلی بار اڑن طشتریاں نظر آنے کے واقعات پر سماعتلوٹوں کے خلاف فیصلے پر سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں، عمران خان فیصلے پر ردعملہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد میں ظاہر ہونے والی علاماتسابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت میں ملک گیر مظاہروں کے بعد بیرون ملک بھی مظاہروں کا سلسلہ جاریعمران کے فونز چوری ہونے کا معاملہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز میں گمشدگی کے شواہد نہ مل سکےحکومت کا چیئرمین نیب کو ہٹانے کا فیصلہکراچی دھماکا: وزیراعظم کا وزیراعلیٰ کو فون، ہر ممکن تعاون کی پیشکشملک میں ڈالر 196 روپے کا ہوگیاآرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل، فیصلہ آج سنایا جائیگاخشک سالی میں گھرے چولستان کے باسی قطرہ قطرہ پانی کو ترس گئےکراچی کے علاقے کھارادر میں دھماکا،خاتون جاں بحق، 12 افراد زخمیکراچی کے علاقے کھارادر میں دھماکے کی اطلاعپانی کی قلت، دریائے سندھ بعض مقامات پر صحرا بن گیاسیسی میں کام کرنے والے نجی سیکورٹی گارڈز کی کم سے کم اجرت 25 ہزار کردی گئی: سعید غنیروپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری، آج کتنا مہنگا ہوا؟شیخ محمد بن زید سے شارجہ کے المرشدی قبیلے کے سربراہ قاسم المرشدی کی تعزیتعمران خان کے جان کے خطرے سے متعلق بیان پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکش

موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بروقت اقدامات جائیں ورنہ دنیا کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں ، ملک امین اسلم

اسلام آباد، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل میں پوریدنیا کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں ۔

¾ گرمی کی شدت میں اضافہ ¾ تیزی کے ساتھ پگھلتےگلیشیئرز ¾ زیرزمین پانی کی سطح میں کمی اور زرعی اجناس کی پیداوار میں کمی سمیت کئی موسمیاتیچیلنجز ہیں جن پر قابو پانے کے لئے بروقت اور سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان ان چیلنجزسے نمٹنے کے لئے بلین ٹری منصوبے سمیت کئی ہنگامی اقدامات کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نےواشنگٹن میں پاکستان سمیت 41 ممالک پر مشتمل سربراہی اجلاس سے اپنے کلیدی خطاب کے دوران کیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک امین مسلم نے کہا کہ امریکہ نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سےکٹھن حالات میں یہ اجلاس رکھ کر بہترین اقدام اٹھایا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ یہ موسمیاتی تبدیلی سےنمٹنے کے لئے اقدامات پر عمل پیرا ہونے اور زمین پر حقیقی نتائج دکھانے کا وقت ہے،یہ امر قابل غور ہے کہکاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ محض ایک فیصد ہے مگر اس کا شمار دنیا کے ان 10 ممالک میںہوتا ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثرہیںتاہم اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانجغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے ایسے مقام پر واقع ہے جو ہر صورت موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ دن بدن تیزی سے پاکستان کے شمال کی جانب ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئر زتیزی سے پگھل رہے ہیں، خشک علاقہ جات کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، ہیٹ ویوز آرہی ہیںاور گزشتہ برس زمین کی گرم ترین جگہ بھی پاکستان میں ہی ریکارڈ کی گئی۔جبکہ جنوب میں ہمارا ساحلسطح سمندر میں اضافہ کے باعث متاثر ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہکورونا وباءکے سنگین دور میںہمیں ان تمام موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے جس سے دنیا کی پانچویںبڑی آبادی(220ملین لوگ)بری طرح متاثرہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مکمل طورپر تیار اور پر عزم ہونے کے ساتھ ساتھ اس امر میں نمایاں اور اہم کردار ادا کررہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ موسمیاتی مسائل کا حل فطرت میں ہی پوشیدہ ہے، یہی وجہ ہےکہ ہم اس معاملے میں قدرتی حل پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں۔ ملک امین اسلم کا کہناتھا کہ پاکستان اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مناسب اور بر وقت اقدامات نہکئے گئے تو اس کے اثرات مستقبل قریب میں ختم ہونے کے بجائے بڑھ جائیں گے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا ذکرکرتے ہوئے ملک امین اسلم نے شرکاءکو بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے فطرتی حل مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق خیبر پختونخواہ میں بلین ٹری سونامی منصوبہ کامیابی سے مکمل کرنےکے بعد اب ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت ملک بھر میں 10 بلین درخت لگانے اور اس کے ساتھساتھ۱یک ملین ہیکٹرسے زائد جنگلات کو ان کی قدرتی حالت میں واپس لانے کے منصوبے پر تیزی سے کامجاری ہے۔ انہوں ے کہاکہ کورونا وباءکے دنوں میں ہم نے پروٹیکٹڈ ایریا انشی ایٹو کا اعلان کیا جس کے تحتنیشنل پارکس کی تعداد 30سے بڑھ کر 45 ہو چکی ہے ، اس اقدام سے7500 مربع کلومیٹر پروٹیکٹڈ ایریازمیں شامل کیا گیاہے۔

ملک امین اسلم نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت پانی کے تحفظ متعلق خدشات سے بخوبی آگاہ ہے ،پاکستان میں بھی واٹر سیکیورٹی کا مسئلہ زیر غور لایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریچارج پاکستان کےنام سے ایک پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے جس میںگزشتہ دہائیوں سے نظر انداز اس اہم مسئلہ کو حل کرنےکے بہترین اقدامات کئے جائیں گے۔ اس پروگرام کے تحت ہر سال پاکستان میں آنے والی پانی کی بڑی کھیپاور غیر متوقع مون سون بارشوں کو ضائع ہونے کے بجائے اسے بہترین مقاصد کے لیے استعمال کرنے کالائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔علاوہ ازیں، ریچارج پاکستان کے تحت پانی کو نقصانات کی بجائے فوائد کے لیےاستعمال کرنے کا بیڑہ اٹھایا جا رہا ہے تاکہ زراعت سے متعلق مسائل بھی حل کئے جا سکیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں اور پانیکے مسائل کے باعث سب سے زیادہ نقصان زرعی زمینوں اور ان کی پیداوار سے ہو رہا ہے ،یہ ایسا وقت ہےکہ کسان نہیں جانتے کہ کس طرح تیزی سے بدلتے مون سون بارشوں کے سلسلے اور موسمیاتی تبدیلیوں کےمطابق زرعی اجناس کی پیداوار کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرنا ہے۔انہوں نے اجلاس کے شرکاءکو بتایا کہپاکستان میں کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر پروگرام متعارف کروایا گیا ہے جس میں فی الحال 8 اضلاع شاملہیں ، منصوبہ کے مطابق اس میں مزید علاقوں کو شامل کیا جائے گا مگر اس امر میں مناسب ٹیکنالوجی کااستعمال درکار ہے۔

ملک امین اسلم نے کورونا وباءسے نمٹنے کے لئے پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتےہوئے شرکاءکو بتایا کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو کورونا وباءکے دور میں بد ترینمعاشی مسائل کا سامنا تھاجس سے سینکڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے، اس امر میںوزیراعظم پاکستان نے بےروزگار افراد کے لئے گرین اسٹیمولیس پروگرام کا اعلان کیا ، جس کے تحت فطرت، اس کے تحفظ کے ساتھساتھ گرین جابز کو بھی زیر غور رکھا گیا۔ کورونا کے دوران ملک بھر میں بیروزگار ہونے والوں کو 85000 نوکریاں فراہم کی گئیں۔تاہم اب گرین اسٹیمولس پروگرام میں مزید 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کےمزید گرین جابز فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔

ملک امین اسلم نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت ملک سے آلودگی کے خاتمہ کے لیے رینیو ایبل انرجی کاراستہ ااختیار کرنے کا مضبوط ارادہ رکھتی ہے، ہماری کوشش ہے کہ 2030 ءتک 60 فیصدتک صاف توانائیکے ذرائع استعمال میں لائیں جبکہ الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت ہم 2030 ءتک 30 فیصد تک اپنی ٹرانسپورٹ انڈسٹری میں الیکٹرک وہیکل کا استعمال عمل میں لائیں گے کیونکہ ٹریفککا دھواں اس وقت دنیا میں گرین ہاﺅس گیسوں کی اہم وجہ ہے۔

ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات ہماری مضبوط سیاسی قیادت اورآنے والی نسلوں کوموسمیاتی تبدیلیوں کو بچانے کے ارادہ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اجلاس بہترین وقت پررکھا گیا ہے مگر اس کے ذریعہ یہ پیغام جانا ضروری ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سےمحفوظ رہنے کے لیے زیادہ سے زیادہ عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم ہمیں باتوں سے زیادہ زمین پرکام کر کے دکھانے کی ضرورت ہےاور اس سلسلے میںفنڈنگ بھی ایک اہم نقطہ فکر ہے جس سے بہت سےمسائل کیے جاسکیں گے۔ تاہم اس موضوع پر نومبر 2021ءگلاسگو میں ہونے والے اجلاس میں بھی مزیدتبادلہ خیال کیا جائے گا۔تاہم کلائمیٹ فنانسنگ کو تین طریقوں سے یقینی بنایا جائے، سب سے پہلے تو 10 سال سے شاملِ ذکر0 10 بلین ڈالر کی فنانسنگ کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ، اس امر کو یقینی بنایاجائے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا عمل اختیار کرنے کے لیے دیئے جانے والے فنڈزکو کلائمیٹ فنانسنگو سی ایشن پروسیس میں اہم سطح پر موضوعِ گفتگو بنایا جائے اور اسے پاکستان اور اس جیسے ایسےتمام ممالک کو فراہم کیا جائے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہصاف توانائی کے طریقہ کار استعمال کرنے کے لیے بہترین ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے ٹرانزیشن فنانس کوبھی زیرِ غور لایا جائے۔

معاونِ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ ہماری حکومت اور وزیر اعظمعمران خان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور اس کے لئے اہم اقدامات اٹھانے کے لیے کو شاں ہے اور ہم یہاقدامات عالمی تعاون اور کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ اس امر میں کیےجانے والے دعوﺅں کو زمینی حقیقت دی جائے کیونکہ پوری دنیا کے پاس اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوںسے نبرد آزما ہونے کا کوئی اور راستہ نہیں اور نہ ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے دنیا میں کوئیویکسین ایجاد ہو سکتی ہے۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »