پاک افغان اور پاک ایران سرحد پر 18 مارکیٹس قائم کی جائیں گی، وزیراعظم نے فروری تک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر 3 مارکیٹس کے قیام کی منظوری دے دی.
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بارڈر مارکیٹوں کے قیام سے سرحدی علاقوں پر مقیم آبادیوں بالخصوص نوجوانوں کو تجارت کاموقع ملے گا۔
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاک افغان اور پاک ایران سرحدی علاقوں میں بارڈر مارکیٹس کے قیام کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، مشیرخزانہ، مشیرتجارت ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلٰی، معاون خصوصی اطلاعات عاصم سلیم باجوہ نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاک افغان بارڈر پر 12 اور پاک ایران سرحد پر 6 بارڈر مارکیٹس اقائم کی جائیں گی۔
وزیر اعظم نے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر صوبہ بلوچستان میں 2 اور خیبرپختونخوا میں ایک بارڈر مارکیٹ کے قیام کی منظوری دی جنہیں فروری تک مکمل کرکے فعال کر دیا جائے گا۔
اجلاس میں سرحدوں کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے مزید مؤثر اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان مارکیٹوں کے قیام سے جہاں سرحدی علاقوں پر مقیم آبادی خصوصاً نوجوانوں کو کاروبار اور تجارت کے بہتر مواقع میسر آئیں گے وہاں سرحدوں پر فینسنگ (باڑ کی تنصیب) کے بعد آمد و رفت اور تجارت کو منظم کرنے اور اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے خاطر خواہ مدد ملے گی۔