تازہ ترین
این اے 133 ضمنی انتخاب، پی پی کو 2018 کے مقابلے میں 26ہزار728 ووٹ زیادہ ملےبھارتی ریاست ناگالینڈ میں سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے 13مزدور مار ڈالےآئی ایم ایف کی نئی شرائط ملکی اداروں کو گروے رکھنے کے مترادف ہے، محمد حسین محنتیوہاڑی واقعہ، عثمان بزدار کی قائداعظم کے مجسمے پر فوری طورپر عینک لگانے کی ہدایتمنی لانڈرنگ کیس: جیکولین فرنینڈس کو بھارت سے باہر جانے سے روک دیا گیاگوادر کوقومی اور بین الاقوامی مافیاز کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں گے، سراج الحقوزیراعظم کا پریانتھا کمارا کو بچانےکی کوشش کرنیوالے شخص کیلئے تمغہ شجاعت کا اعلانپریمئیر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ میں ملک بھر سے 12 ٹیموں کے 200 پلئرز نے حصہ لیاتیز رفتارگاڑی نے 4 بچوں کوکچل دیا، ایک بچہ جاں بحقاسسٹنٹ کمشنر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیادنیا کی معمر ترین ٹیسٹ کرکٹر ایلین ایش110سال کی عمر میں انتقال کر گئیں’وزیراعظم 10 دسمبر کو کراچی کے پہلے جدید ترین ٹرانسپورٹ سسٹم کا افتتاح کریں گے‘ٹائر پھٹنے پر مسافروں کا طیارے کو دھکا لگانے کا انوکھا واقعہپاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سندھی ثقافتی دن منایا جارہاہےلڑکی سے زیادتی کے الزام میں گرفتار سینئر سول جج ضمانت پر رہاسیالکوٹ واقعہ: گرفتار افراد میں سے 13 اہم ملزمان کی شناخت، تصاویر جاریملک میں قرآن و سنت جمہوریت و آئین کی بالادستی کیلئے اچھی قیادت کو آگے لانا ہوگا۔ لیاقت بلوچلاقانونیت اور کرپشن نے ملک کو کھوکھلا کر دیا، سراج الحقایک شخص مشتعل ہجوم سے پریانتھا کمارا کو بچانےکی تن تنہا کوشش کرتا رہاملک میں سونا 600 روپےفی تولہ سستا ہوگیا

جائیدادوں کی تفصیلات جاسوسی کے ذریعے حاصل کی گئی، جسٹس عیسیٰ

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ان کی تین مبینہ آفشور جائیدادوں کی تفصیلات جاسوسی کے ذریعے حاصل کی گئی۔
صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست سننے والی سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب الجواب میں درخواست گزار جج نے کہا کہ عبدالوحید ڈوگر، جن کی شکایت پر سپریم جوڈیشنل کونسل میں ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا، نے ابھی تک ان کی اہلیہ کی مبینہ آفشور جائیدادوں سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق دستاویز میں کہا گیا کہ اسی طرح اثاثہ جات ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے چیئرمین بھی سامنے نہیں آرہے اور نام نہاد دستاویزی ثبوت ریفرنس کی شکایت کے ساتھ منسلک کیے گئے نا اس کے بعد جمع کروائے گئے۔
جواب الجواب میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ 14 ماہ کے بعد بھی وفاقی حکومت نے اب تک مبینہ تلاشی کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ 192 ڈاٹ کام اور ایچ ایم رجسٹری سرچ انجن کے ذریعے انجام دی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دلائل کے طور پر مان بھی لیا جائے کہ یہ تلاشیاں کی گئیں اور درخواست گزار کی اہلیہ اور بیٹا، بیٹی 3 جائیدادوں کے مالک نکلے تو بھی حکومت نے کسی ایک تلاشی کا بھی مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا۔

جواب الجواب میں دعویٰ کیا گیا کہ کہ لہٰذا کوئی تلاشی کی ہی نہیں گئی اور درخواست گزار کے اہِلِ خانہ کے نام اور جائیدادوں کی تفصیلات جاسوسی کے ذریعے حاصل کی گئیں۔

جواب الجواب میں مزید کہا گیا کہ تلاشی کرنے والوں اور اس کے لیے ادائیگی کرنے والوں کی شناخت کو پوشیدہ رکھا گیا اور اگر یہ دستاویزت فراہم کی جائیں تو انکشاف ہوگا کہ عبدالوحید ڈوگر مبینہ پراکسی ہے۔
اس سلسلے میں ایک سوال کا جواب حکومت کی جانب سے درکار ہے وہ یہ کہ کیا وہ مواد چھپانے کا حق رکھتے ہیں اور عدالت کو گمراہ کررہے ہیں۔

جواب الجواب میں الزام لگایا گیا کہ متعلہق فریق(حکومت) بہت اختراعی ہے اور اس لیے قبل اس کے کہ سان کی مبینہ چالاکی ان سے کہے کہ تمام 6 تلاشیوں میں سے کسی بھی تلاشی کی دستاویز محفوظ نہیں یا وہ گم گئیں، پھٹ گئیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ 19ڈاٹ کام اور ایچ ایم رجسٹری کی تحقیقات مکمل طور پر الیکٹرونک ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ کاغذ جس پر ای میل بھیجا یا وصول کیا گیا ہو گم سکتا ہے لیکن ای میل اکاؤنٹ کے ماکلک کا ان باکس، سبھیجی گئی ای میل کا فولڈر الیکٹرونک طریقے سے ہر چیز واپس لا سکتا ہے اور نمبر بھی دوبارہ پرنٹ کیے جاسکتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز کا مزید کہنا تھا کہ اسی چیز کا اطلاق ڈیبٹ کارڈ/کریڈٹ کارڈ پر بھی ہوتا ہے کہ اور کمپنی یا بینک کو تازہ دستاویز جاری کرنے کے لیے رابطہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان دستاویز کی عدم فراہمی نے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
جواب الجواب میں مزید کہا گیا کہ ’یہ ان افراد کی شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے کیا جارہا ہے جنہوں نے یہ تحقیقات کیں یا جنہوں نے اس کے لیے ادائیگی کی ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ تحقیقات کبھی کی ہی نہیں گئیں یا اس طریقے سے نہیں کی گئیں جو بیان کیا گیا۔

جواب الجواب میں یہ بھی کہا گیا کہ اپنے پراکسی عبدالوحید ڈوگر کے لیے ان کی وابستگی اور عزائم مدمقابل جواب دہندہ کے مبینہ، کینہ پروری، بدنیتی پر مشتمل مذموم مقاصد ظاہر کرتے ہیں۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »