تازہ ترین
ٹرک سے 400 کلو سے زائد چرس بر آمد، ملزم گرفتارافسران کے تبادلے کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ کی افسران کو چارج نہ چھوڑنے کی ہدایتعمران خان کی حکومت گرانے کیلیے تمام آئینی وقانونی راستے اختیار کرینگے، پیپلز پارٹیطالبان نے بدھا مجسموں کی جگہ اور قدیم یادگاروں کو سیاحت کیلئے کھول دیاروپے کی قدر میں زبردست کمی کے باوجود درآمدات بڑھ رہی ہیں، میاں زاہد حسینعاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن نے نوازشریف کی تقریر پرحکومتی تنقید مسترد کردیائیرپورٹ پر مسافر کے بیگ سے کروڑوں روپے کی ہیروئن برآمدکراچی سمیت سندھ میں سی این جی اسٹیشنز کو ڈھائی ماہ کیلئے کی فراہمی بندججز کے سیمینار میں چیف گیسٹ اسے بلایا گیا جسے سپریم کورٹ نے سزا دی: وزیراعظمیو اے ای میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئیآڈیو لیک: فرض کریں ٹیپ درست ہے تو اصل کلپ کس کے پاس ہے؟جسٹس اطہر من اللہ’کورونا کے نئے ویرینٹ کا علم نہیں، تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں‘عمران خان کو نوجوان اقتدار میں لائے تھے وہی بھگائیں گے، سراج الحقاومی کرون سے متاثرہ مریضوں میں معمولی علامات ہیں، جنوبی افریقا میڈیکل ایسوسی ایشنمال و دولت نہیں بلکہ تعلیم سب سے بڑی نعمت ہے، محمد حسین محنتیحکومت نے آئی ایم ایف شرائط کے تحت منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیااین اے 133 ضمنی الیکشن: ووٹرز سے قرآن پر حلف لیکر ووٹ خریدنے کے الزاماتگرین لائن منصوبہ کب آپریشنل ہو گا؟ اسد عمر نے کراچی والوں کو خوشخبری سنا دیمال دولت نہیں انسان کے اندر غیرت ضروری ہے، وزیراعظماومی کرون وائرس کا خدشہ: سندھ میں بوسٹر ڈوز لازمی قرار

’پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کیساتھ مل کر نکالنا چاہیے‘

برطانیہ کی لیبرپارٹی کے رہنما کئیر اسٹارمر نے مسئلہ کشمیر  کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ اولین ترجیع ہے اور  امن کا پرچار چاہتا ہوں۔

برطانیہ کی لیبرپارٹی کے رہنما کئیر اسٹارمر نے پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ  افضل خان کےنام خط لکھا جس میں انھوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر پر لیبر پارٹی کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، لیبرپارٹی کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قرارداداوں کو تسلیم اور ان کی حمایت کرتی ہے۔

کئیر اسٹارمر نے کہا کہ امن کا پرچار چاہتا ہوں مگر انسانی حقوق کا تحفظ اولین ترجیع ہے، اس لیے پاکستان اور بھارت کو مسئلے کا حل کشمیریوں کے ساتھ مل کر نکالنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کمیونیٹیز کے درمیان تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

دوسری جانب برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے پارٹی کے سربراہ کئیر اسٹارمر کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور وادی میں مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو 9 ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ہے۔

وادی میں گزشتہ سال 5 اگست سے تاحال موبائل اور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہیں جب کہ حریت قیادت اور سیاسی رہنما بدستور گھروں اور جیلوں میں بند ہیں۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست 2019 کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل آرٹیکل 370 کو ختم کردیا اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کر دیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جب کہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کر الیے۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا تھا۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے تھے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا تھا

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »