تازہ ترین
سعید غنی کی ہتک عزت کی درخواست پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل پر فرد جرم عائدراولپنڈی میں شادی ہال کی لفٹ گرگئی، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمیسانحہ مری انتظامیہ کی غفلت سے پیش آیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹصدرمملکت نے ایف بی آر کی انتظامی ناانصافی پر بزرگ شہری سے معذرت کرلیجھوٹ اور غلط بیانی وفاقی وزراء کا وطیرہ بن چکا ہے، امتیاز شیخشریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے، شہباز گل کا دعویٰشہزادہ ہیری نے گارڈز واپس لینے کیلئے برطانوی حکومت کیخلاف مقدمے کی دھمکی دیدیانسٹا گرام اب ٹک ٹاک کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کرنے کو تیارمیں عمران نیازی کو رات کو ڈراؤنے خواب کی طرح آتا ہوں: شہباز شریففیکٹری میں زہریلی گیس پھیلنے سے چینی شہری ہلاک، 2 متاثردنیا بھر میں اومی کرون سونامی کی طرح پھیلنے لگالی مارکیٹ کی عمارت سے اینٹی ائیرکرافٹ گن سمیت نیٹو کا جدید اسلحہ برآمد’اب بل نہیں سندھ واپس لیں گے‘، بلدیاتی قانون کیخلاف پی ٹی آئی، MQM اور GDA کا مظاہرہطالبان نے افغان اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کر دیاکورونا: این سی او سی نے پابندیوں کا نفاذ شروع کردیاعلی زیدی پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات احمد جواد کے انکشافات پر صفائی دیں، سعید غنیایس بی سی کے سرٹیفکیٹ کےبغیر نئی عمارات کو یوٹیلیٹی کنکشنز نہ دینے کا حکمکیا منال نے احسن کی دولت کی وجہ سے ان سے شادی کی ہے؟کورونا کیسز: سندھ حکومت کا اسکول کھلے رکھنے کا فیصلہبپن راوت کا ہیلی کاپٹرگرنے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی، وجہ کیا تھی؟

سندھ میں گندم کا بحران ، آٹے کی قیمت میں اضافہ

سندھ میں مؤثر پرائس کنٹرول حکمت عملی کی عدم موجودگی اور گندم کے بحران کے نتیجے میں فلور ملوں کو گندم کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے جبکہ آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا۔

فلور ملوں کے مالکان نے گزشتہ روز آٹے کی قیمت میں فی کلو 2 روپے اضافہ کردیا جبکہ اس سے محض دو روز قبل ہی 3 کلوآٹے پر ایک روپے کا اضافہ کردیا تھا۔

فلور مل مالکان کے مطابق 2.5 نمبر آٹے کی قیمت فی کلو 46 روپے سے 48 روپے جبکہ فائن اور سپر فائن آتا (میدہ) کی قیمت فی کلو52.50 ہوگئی ہے جو 50 روپے فی کلو تھی۔

نئی قیمتوں کے مطابق 10 کلو آٹے کی قیمت 465 روپے بجائے 485 روپے مقرر کردی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق شہری حکومت کے مؤثر پرائس کنٹرول نظام کے ناپید ہونے کے باعث فلور مل مالکان نے گزشتہ 35 روز میں فی کلو آٹے کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ کردیا ہے۔

سندھ حکومت نے قیمت میں اچانک اضافے اور ملوں میں موجود آٹے کے ذخیرہ سے متعلق تحقیقات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب مل مالکان نے آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ اندرون سندھ سے گندم میں عدام فراہمی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اوپن مارکیٹ میں گندم بڑی مشکل سے دستیاب ہے، جن تاجروں کے پاس گندم کا ذخیرہ ہے وہ 100 کلو گرام گندم 4 ہزار 550 روپے پر فروخت کررہے ہیں جو 4 ہزار 350 میں 200 کا اضافہ ہے’۔

مل مالک کا کہنا تھا کہ ایک ماہ قبل اسی گندم کی قیمت 4 ہزار تھی اور مئی کے تیسرے ہفتے میں گندم کا تھیلا 3 ہزار 500 میں دستیاب تھا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سمتبر اور اکتوبرمیں گندم فراہم کرے گی اور اس وقت تک مل مالکان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اوپن مارکیٹ سے گندم خریدنی پڑتی ہے۔

محکمہ خوراک کی جانب سے مختلف چیک پوسٹس بنائی گئی ہیں جو گندم کے ٹرکوں کو کراچی پہنچنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے رواں سیزن کے 1.4 میٹرک ٹن ذخیرے کے لیے 26 مارچ سے اب تک 1.2 میٹرک ٹن حاصل کرچکی ہے۔

گندم غائب کرنے پر ٹھیکیدارکی گرفتاری

قومی احتساب بیورو (نیب) سکھر نے 11 ہزار 403 ٹن گندم کے خرد برد کے الزام میں ٹھیکیدار کو گرفتار کرلیا جس کو گھوٹکی سے گندم کراچی پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

نیب عہدیداروں کا کہنا تھا کہ 30 کروڑ روپے کی گندم کا غبن کیا گیا ہے اورملزم کی شناخت ہریش کمار کے نام سے ہوئی ہے جو دو فلور ملوں کو مالک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ٹھیکیدار کو 2018 میں کراچی کو گندم کی فراہمی کے لیے ٹھیکا دیا گیا تھا، انہوں نے گھوٹکی میں قائم گودام سے 48.770 ٹن گندم اٹھائی تھی اور کراچی جاتے ہوئے راستے میں 11 ہزار 403 ٹن گندم غائب کردی۔

نیب عہدیداروں نے کہا کہ ملزم ذخیرہ اندوزی میں بھی ملوث تھا اور چھاپے کے دوران ان کی فلور ملز سے ذخیرہ کی گئی گندم کی بڑی مقدار برآمد کرلی گئی تھی۔

ملزم کو نیب نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا اور 14 روز کا عدالتی ریمانڈ حاصل کرلیا۔

کنگھڑ کے اسسٹنٹ کمشنر عدیل سوہو نے ضلع گھوٹکی میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف جاری چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران خیرپور مہر میں 15 مقامات پر چھاہے مارے اور گندم کے 15 ہزار تھیلے برآمد کرلیے۔

مقامی انتظامیہ کے عہدیدار نے بتایا کہ محکمہ خوراک گندم کےتھیلوں کو قبضے میں لے کر تاجروں کی جانب سے منافع خوری کے لیے ذخیراندوزی کے لیےاستعمال ہونے والے گودام کو سیل کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گودام آنند کمار، سیتوان داس، چندر بن، گنشام داس، کیلاش کمار، روشن لال، واشو رام، سنجے کمار، وجے کمار، منوج کمار اور دیگر کی ملکیت ہیں۔

عدیل سوہو کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کی ہدایات کی روشنی میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف چھاپے جاری رہیں گے۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »