تازہ ترین
ٹرک سے 400 کلو سے زائد چرس بر آمد، ملزم گرفتارافسران کے تبادلے کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ کی افسران کو چارج نہ چھوڑنے کی ہدایتعمران خان کی حکومت گرانے کیلیے تمام آئینی وقانونی راستے اختیار کرینگے، پیپلز پارٹیطالبان نے بدھا مجسموں کی جگہ اور قدیم یادگاروں کو سیاحت کیلئے کھول دیاروپے کی قدر میں زبردست کمی کے باوجود درآمدات بڑھ رہی ہیں، میاں زاہد حسینعاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن نے نوازشریف کی تقریر پرحکومتی تنقید مسترد کردیائیرپورٹ پر مسافر کے بیگ سے کروڑوں روپے کی ہیروئن برآمدکراچی سمیت سندھ میں سی این جی اسٹیشنز کو ڈھائی ماہ کیلئے کی فراہمی بندججز کے سیمینار میں چیف گیسٹ اسے بلایا گیا جسے سپریم کورٹ نے سزا دی: وزیراعظمیو اے ای میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئیآڈیو لیک: فرض کریں ٹیپ درست ہے تو اصل کلپ کس کے پاس ہے؟جسٹس اطہر من اللہ’کورونا کے نئے ویرینٹ کا علم نہیں، تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں‘عمران خان کو نوجوان اقتدار میں لائے تھے وہی بھگائیں گے، سراج الحقاومی کرون سے متاثرہ مریضوں میں معمولی علامات ہیں، جنوبی افریقا میڈیکل ایسوسی ایشنمال و دولت نہیں بلکہ تعلیم سب سے بڑی نعمت ہے، محمد حسین محنتیحکومت نے آئی ایم ایف شرائط کے تحت منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیااین اے 133 ضمنی الیکشن: ووٹرز سے قرآن پر حلف لیکر ووٹ خریدنے کے الزاماتگرین لائن منصوبہ کب آپریشنل ہو گا؟ اسد عمر نے کراچی والوں کو خوشخبری سنا دیمال دولت نہیں انسان کے اندر غیرت ضروری ہے، وزیراعظماومی کرون وائرس کا خدشہ: سندھ میں بوسٹر ڈوز لازمی قرار

انسانی پٹھوں سے ڈرون کنٹرول کرنے کا کامیاب مظاہرہ

بوسٹن: اس سے قبل ڈرون کو آنکھوں کے اشارے اور دماغی سگنلز سے کنٹرول کرنے کے کئی تجربات ہوچکے ہیں اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ ایم آئی ٹی کے انجینیئروں نے ہاتھوں کی جنبش اور پٹھوں کے سگنل سے ڈرون کنٹرول کرنے کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔

اس تجرباتی سسٹم کو ’کنڈکٹ اے بوٹ‘ کا نام دیا گیا ہےجس میں (برقی سرگرمی نوٹ کرنے والے) الیکٹرومایوگرافی نظام اور حرکت محسوس کرنے والے موشن سینسر استعمال کئے گئے ہیں۔ تجرباتی طور پر انہیں سیدھے ہاتھ کی اوپری مچھلی (بائسیپ) نچلے پٹھے (ٹرائی سیپ) اور نچلے بازو پر لگایا گیا ہے۔ سارے سینسر ایک ساتھ ملکر بازو کی حرکت اور بازو کے سگنل کو پڑھتے رہتے ہیں جس کا ڈیٹا مائیکروپروسیسر تک جاتا ہے۔

پروسیسر میں مشین لرننگ الگورتھم شامل کیا گیا ہے جو بازو کے سگنل اور مختلف حرکات کو دیکھتے ہوئے ان کو ڈرون کے لیے احکامات میں بدلتا ہے۔ یہ ہدایات وائرلیس کے ذریعے چار پر والے ڈرون تک پہنچتی ہے اور اس کے لحاظ سے عمل کرتا ہے۔

اس کے بعد ڈرون پٹھے کے اشاروں کو بھی سمجھتے ہوئے ازخود ان کی مطابقت میں آجاتا ہے۔ اب اگر بازو کے اوپری حصے کو سخت کردیا جائے تو ڈرون رک جائے گا۔ مٹھی کو زور سے بند کرنے پر ڈرون آگے جاتا ہے۔ مٹھی کو گھڑی وار اور گھڑی کی سمت کے خلاف گھمایا جائے تو وہ دائیں اور بائیں گھومتا ہے۔ اگر مٹھی کو دائیں بائیِں، اوپر اور نیچے گھمایا جائے تو ڈرون بھی دائیں اور بائیں یا اوپر اور نیچے ہوجاتا ہے۔ اس طریقے سے ڈرون نے مجموعی طور پر 1500 اشاروں کو 82 فیصد درستگی سے سمجھا اور عمل کیا۔

اس ٹیکنالوجی میں کسی بھی ڈرون کو آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے اور ہر نئے شخص کے لیے نظام کو ٹریننگ دینے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آسکتی۔ اس طریقے سے بوڑھے اور معذور افراد کے لیے مددگار روبوٹ بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔

اس پر کام کرنے والے مرکزی محقق جوزف ڈیل پریٹو کہتے ہیں کہ ڈرون نظام کو مزید مؤثر بنانے پر کام جاری ہے اور جلد ہی اس ٹیکنالوجی سے عام لوگ بھی فائدہ اٹھاسکیں گے۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »