تازہ ترین
پانچ شہروں سے متعلق ریڈالرٹ جاری کیا ہوا ہے، شیخ رشیدکنزیومر موومنٹ غریب عوام کی داد رسی کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرے، محمد حسین محنتیمسلم ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظمپریانتھا کو کس نے قینچی ماری اور کس نے لاش جلائی؟ 7 مرکزی ملزمان کا پتا چل گیالاہور میں دھماکا، ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمیایران کے ساتھ مذاکرات پر ہار ماننے کا وقت نہیں، امریکی صدرپاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر سارہ گل نے ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، سعید غنیلتا منگیشکر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرعلاج، ڈاکٹروں کی دعا کی اپیلحکومت چھوٹے کاروبار کیلئے لیز پر زمین فراہم کرے گی، وزیراعظم کا اعلاناندرون ملک سفر پرپاکستانیوں کا گھیرا تنگ، فضائی ٹکٹ پر شناختی کارڈ نمبر درج ہوگاپی ٹی آئی حکومت کے دعووں کے برعکس مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنادی ہےکراچی: ایف آئی اےکی میڈیسن مارکیٹ میں کارروائی، بھاری تعداد میں جعلی ادویات برآمدڈاکٹرطارق بنوری نے چیئرمین ایچ ای سی کا چارج دوبارہ سنبھال لیاکراچی میں بھی گدھوں کے گوشت کے استعمال کا خدشہنسلہ ٹاور کیس: بلڈرز نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لیکورونا کیسز: این سی او سی نے نئی پابندیاں نافذ کردیںشاہ رخ جتوئی کا اسپتال میں رہنےکا معاملہ، بلاول نے سندھ حکومت کو بری الذمہ قرار دیدیاممبئی میں لنگر انداز بھارتی جنگی بحری جہاز میں دھماکا، 3 اہلکار ہلاکابوظبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی اتحاد کی یمن میں بمباری، 20 افراد ہلاککرشمہ یا کورونا ویکسین کا کمال؟ معذور شخص چلنے اور بولنے لگا

شامی افواج کو کہیں بھی نشانہ بناسکتے ہیں: طیب اردوان

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے ترک فوج پر حملے کی صورت میں شام کو کارروائی سے متنبہ کردیا۔

پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے شام کو خبردار کیا کہ اگر مزید ایک ترک فوجی بھی زخمی ہوا تو ترکی شام میں کہیں بھی حملہ کرے گا اور ضرورت پڑنے پر فضائی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی رواں ماہ کے آخر تک ادلب کے شمال مغربی علاقے میں آبزرویشن پوسٹوں سے شامی فورسز کو نکالنے کے لیے پرعزم ہے اور ہم یہ فضائی یا زمینی کسی بھی ضرورت کے تحت کریں گے۔

ترک صدر نے خبردار کیا کہ شامی حکومت کو ادلب میں ترک افواج پر حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ترکی 2018 میں روس کے ساتھ معاہدے کے تحت شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں 12 آبزرویشن پوسٹیں قائم کرچکا ہے جب کہ اس معاہدے کو شامی صدر کی حمایت حاصل تھی۔

ستمبر 2018 میں ایک معاہدے کے تحت ترکی اور روس ادلب کو پر امن علاقے میں تبدیل کرنے پر رضا مند تھے جہاں کسی بھی قسم کی جارحیت پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور گزشتہ ماہ جنوری میں ادلب میں متعدد حملے کیے گئے۔

رواں ماہ شامی شہر ادلب میں شامی افواج کے حملوں میں 13 ترکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ ترکی کا کہناہےکہ اس نے دونوں حملوں پر انتقامی کارروائی کی اور شام میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »