تازہ ترین
سعید غنی کی ہتک عزت کی درخواست پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل پر فرد جرم عائدراولپنڈی میں شادی ہال کی لفٹ گرگئی، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمیسانحہ مری انتظامیہ کی غفلت سے پیش آیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹصدرمملکت نے ایف بی آر کی انتظامی ناانصافی پر بزرگ شہری سے معذرت کرلیجھوٹ اور غلط بیانی وفاقی وزراء کا وطیرہ بن چکا ہے، امتیاز شیخشریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے، شہباز گل کا دعویٰشہزادہ ہیری نے گارڈز واپس لینے کیلئے برطانوی حکومت کیخلاف مقدمے کی دھمکی دیدیانسٹا گرام اب ٹک ٹاک کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کرنے کو تیارمیں عمران نیازی کو رات کو ڈراؤنے خواب کی طرح آتا ہوں: شہباز شریففیکٹری میں زہریلی گیس پھیلنے سے چینی شہری ہلاک، 2 متاثردنیا بھر میں اومی کرون سونامی کی طرح پھیلنے لگالی مارکیٹ کی عمارت سے اینٹی ائیرکرافٹ گن سمیت نیٹو کا جدید اسلحہ برآمد’اب بل نہیں سندھ واپس لیں گے‘، بلدیاتی قانون کیخلاف پی ٹی آئی، MQM اور GDA کا مظاہرہطالبان نے افغان اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کر دیاکورونا: این سی او سی نے پابندیوں کا نفاذ شروع کردیاعلی زیدی پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات احمد جواد کے انکشافات پر صفائی دیں، سعید غنیایس بی سی کے سرٹیفکیٹ کےبغیر نئی عمارات کو یوٹیلیٹی کنکشنز نہ دینے کا حکمکیا منال نے احسن کی دولت کی وجہ سے ان سے شادی کی ہے؟کورونا کیسز: سندھ حکومت کا اسکول کھلے رکھنے کا فیصلہبپن راوت کا ہیلی کاپٹرگرنے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی، وجہ کیا تھی؟

سب سے پہلے کورونا وائرس سے آگاہ کرنے والا ڈاکٹر بھی جان کی بازی ہار گیا

چین میں سب سے پہلے کورونا وائرس کے خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرنے والا ڈاکٹر خود بھی جان کی بازی ہار گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈاکٹر لی وینلیانگ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چینی شہر ووہان کے مرکزی اسپتال میں کام کرتے تھے۔

ڈاکٹر لی وینلیانگ نے 30 دسمبر 2019 کو اپنے ساتھی طبی اہلکاروں کو کورونا وائرس کے پھیلنے کے خطرات اور مضمرات سے آگاہ کیا۔

جس کے بعد پولیس نے انہیں اس حوالے سے خاموش رہنے کی ہدایت کی کیونکہ چینی حکام اس خبر کو خفیہ رکھنا چاہتے تھے۔
ساتھی ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو خبردار کرنے کے ایک ماہ بعد 34 سالہ ڈاکٹر لی وینلیانگ خود بھی کورونا وائس کا شکار ہوکر اسپتال میں داخل ہوگئے۔

ڈاکٹر لی وینلیانگ نے اسپتال کے بستر سے ہی چینی سوشل میڈیا سائٹ پراپنی کہانی سب کو بتائی۔

لی وینلیانگ نے بتایا کہ انہوں نے اسپتال میں 7 ایسے کیسز دیکھے جو کہ 2003 میں پھیلنے والی وبا ’سارس‘ سے ملتے جلتے تھے اس لیے انہوں نے30 دسمبر 2019 کو اپنے ساتھی طبی عملے کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حفاظتی لباس پہننے کو کہا۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »