تازہ ترین
دریائے سندھ کی 3 ڈولفنز کو سیٹلائٹ ٹیگس لگاکر دریا میں چھوڑ دیا گیاصدارتی نظام کا شوشہ حکومتی ناکامی اور مہنگائی سمیت عوام کے سلگتے مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، محمد حسین محنتیایک ہفتے میں 24 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی شرح 19.36 فیصد پرآگئیلمس: ملازمین کے کاموں میں سکندر جونیجو، سرفراز میمن ودیگر رکاوٹ اور بلیک میلنگ کر رہے ہیں: قلندر بخش بوزدارکراچی کی ضروریات کونظراندازکرنا کمزورمعیشت سے کھیلنے کے مترادف ہے، میاں زاہد حسینشرمیلا کی والدہ سے کیا ان کے بینک اکاؤنٹس کا پوچھتی؟ نادیہ خانڈکیتی کے کیس میں شوہر کے سامنے خاتون سے زیادتی کا بھی انکشافلاہور: انار کلی بازار دھماکے کیلئے کتنے دہشتگرد آئے؟ تفصیلات سامنے آ گئیںگرل فرینڈ کی ماں کو گردہ عطیہ کرنے والے شخص کو دھوکا، لڑکی نے کسی اور سے شادی کرلیبھیک مانگنے والی لڑکی پر دکاندار نےگرم گھی پھینک دیاجماعت اسلامی کی جانب سے لاہور بم دھماکے کی مذمتناقص پلاننگ اور تاخیر سےکیےگئے فیصلے سانحہ مری کی اہم وجہ ہیں، تحقیقاتی رپورٹکراچی میں تیسری شاہ اکیڈمی کرکٹ پریمئیر لیگ شروع، چار ٹیموں کے درمیان دلچسب مقابلےپانچ شہروں سے متعلق ریڈالرٹ جاری کیا ہوا ہے، شیخ رشیدکنزیومر موومنٹ غریب عوام کی داد رسی کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرے، محمد حسین محنتیمسلم ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظمپریانتھا کو کس نے قینچی ماری اور کس نے لاش جلائی؟ 7 مرکزی ملزمان کا پتا چل گیالاہور میں دھماکا، ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمیایران کے ساتھ مذاکرات پر ہار ماننے کا وقت نہیں، امریکی صدرپاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر سارہ گل نے ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، سعید غنی

23 کروڑ سال قدیم خطرناک ڈائنا سور کا ڈھانچہ دریافت

برازیل میں ایک مہم کے دوران کروڑوں سال پرانے ٹی ریکس نامی مشہور ڈائنا سور کی باقیات دریافت کر لی گئیں جس کا قد 7 فٹ تھا۔

برازیل میں دریافت کیا جانے والا 23کروڑ سال قدیم یہ ڈائنا سور اپنے شکار کی ہڈیاں تک چباجاتا تھا۔

محققین کے مطابق اس خوفناک مخلوق کا تعلق مگرمچھوں کے خاندان سے ہے اور یہ ’ٹی ریکس‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔

اس (ڈائنوموسوچس کولسینسس) کے 4 پیر ہوتے تھے لیکن عموماً یہ بھاگنے کے لیے اپنے پچھلے پیروں کا استعمال کرتے تھے جب کہ اس کے طاقتور جبڑے اور ساتھ ہی تیز دھار والے دانت اور پنجے جسم کو چیر دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

جنوبی برازیل میں اگوڈو کے مقام سے اس خطرناک ڈائنا سور کی باقیات دریافت کی گئی ہیں۔

مہم کے لیڈر کا کہنا ہے کہ اس ڈائنا سور کو ’بون کرشر‘ کا نام دیا گیا ہے، اس کے لمبے نوکیلے دانت گوشت کھانے میں اس کی مدد کرتے ہوں گے لیکن اس کے کاٹنے کی رفتار کافی ہلکی ہوگی جس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ شاید مردہ جانور ہی کھاتا ہوگا۔

برازیل کی وفاقی یونیورسٹی آف سینٹا ماریا کے ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر مولر کا کہنا ہے کہ ڈائنا سورز کےابتدائی دور میں جب وہ اپنے شکار پر لڑتے تھے تو یہ (ڈائنوموسوچس کولسینسس) شاید مردار یا ایسے جانور کھانا پسند کرتے ہوں گے جن کا شکار آسانی سے کیا جاسکے جیسے آج کے دور میں گدھ اور لگڑ بگھا کرتے ہیں۔

دوسرے ڈائنا سور جن کا قد 5 فٹ ہوتا تھا اس کے مقابلے میں یہ زیادہ بڑے ہوتے تھے اور اس لیے اس ڈائنا سور کو اُس وقت دنیا میں رہنے والے دوسرے جانوروں کے مقابلے بڑا جانور تصور کیا جاتا تھا۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »