تازہ ترین
3 آنکھوں اور ناک میں 4 سوراخ والے بچھڑے کی پیدائشعمران خان نے پشاور میں پرویز خٹک کی تعریفوں کے پل باندھ دیےزلزلے نے تباہی مچا دی، 12 افراد جاں بحقحکومت پر تنقید کرنے پر پی ٹی آئی کا نور عالم خان کو شوکاز جاری کرنےکا فیصلہابوظبی میں ڈرون حملے کے بعد دھماکے، ایک پاکستانی سمیت 3 افراد ہلاکمعیشت میں مینوفیکچرنگ کا حصہ مسلسل گررہا ہے، میاں زاہد حسینہونے والے داماد کی 365 کھانوں سے آؤ بھگت کرنے والا خاندانمردوں کے باپ بننے کی صلاحیت کس عمر میں سب سے کم ہوتی ہے؟کراچی کے عوام نے دو روز قبل بھان متی کے قبیلہ کے لوگوں کے مظاہرے کو مسترد کردیا، سعید غنیکراچی: کورونا کیسز میں اضافہ، نجی اسکول نے پہلی سے پانچویں تک کلاسز بند کر دیںسعید غنی کی ہتک عزت کی درخواست پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل پر فرد جرم عائدراولپنڈی میں شادی ہال کی لفٹ گرگئی، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمیسانحہ مری انتظامیہ کی غفلت سے پیش آیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹصدرمملکت نے ایف بی آر کی انتظامی ناانصافی پر بزرگ شہری سے معذرت کرلیجھوٹ اور غلط بیانی وفاقی وزراء کا وطیرہ بن چکا ہے، امتیاز شیخشریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے، شہباز گل کا دعویٰشہزادہ ہیری نے گارڈز واپس لینے کیلئے برطانوی حکومت کیخلاف مقدمے کی دھمکی دیدیانسٹا گرام اب ٹک ٹاک کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کرنے کو تیارمیں عمران نیازی کو رات کو ڈراؤنے خواب کی طرح آتا ہوں: شہباز شریففیکٹری میں زہریلی گیس پھیلنے سے چینی شہری ہلاک، 2 متاثر

تعمیراتی شعبے کے لیے آسانیاں پیدا کیے بغیر 50 لاکھ گھروں کی تعمیر ممکن نہیں ہے: سہیل ورند

کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے قائم مقام چیئرمین سہیل ورند نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے کے لیے آسانیاں پیدا کیے بغیر وزیر اعظم عمران خان کے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 5 برسوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔
سہیل ورند کا کہنا ہے کہ کسی بھی فلاحی مملکت میں مناسب سہولتوں سے آراستہ مکان ہر شہری کا خواب ہے اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا حکومتوں کے ذمے داری ہوتی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان نہایت خوش کن ہے لیکن اتنے بڑے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تاحال ہوم ورک نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل عمران خان نے 2 مرتبہ آباد ہاؤس کا دورہ کیا جس میں آباد کی جانب سے انھیں بریف کیا گیا تھا کہ بلڈرز اور ڈیولپرز کوبنیادی سہولتیں گیس،بجلی،پانی اور انفرااسٹرکچر کی فراہمی میں سہولتیں اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لیے ون ونڈو آپریشن جیسی سہولت فراہم کی جائے تو آباد کے ممبران اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مذکورہ اسکیم کے اعلان کو ڈیڑھ برس ہوگیا لیکن تاحال اس منصوبے کے لیے کوئی کام بھی نہیں ہوسکا۔سہیل ورند نے کہا کہ کسی بھی ملک میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم جیسے میگا منصوبوں کی کامیابی میں بنیادی کردار مالیاتی اداروں کی جانب سے آسان قرضوں کی فراہمی کا ہوتا ہے۔
کم آمدنی کے طبقے کے لیے ایسی آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں کہ وہ بینک میں جاکر اپنا گھر خریدنے یا بنانے کے لیے آسان شرائط پر باآسانی قرضہ حاصل کرسکے اور نجی شعبے سے متعلق بلڈرز اور ڈیو؛پرز کو ون ونڈو آپریشن جیسی سہولت میسر ہو لیکن افسوس پاکستان میں ایسا ممکن نہیں ہے۔
سہیل ورند نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے اعلان کے بعد کم آمدنی والے طبقے کو اپنا گھر کا خواب پورا ہونے کی امید پیدا ہوئی لیکن اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد کوئی پیش رفت نہ ہونے کے باعث ان میں مایوسی پھیل رہی ہے جو معاشرے کے لیے خطرے کا پیش خیمہ ہے۔
سہیل ورند نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کو مکمل کرنے کے لیے اب 44 ماہ باقی رہ گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہر ماہ ایک لاکھ سے زائد گھر تعمیر کیے جائیں،اس کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت نجی شعبے کو اعتماد میں لے کر مذکورہ پروجیکٹ کے لیے بنیادی سہولتیں اور ترجیحی بنیادوں پر ون ونڈو آپریشن نافذ کرے تاکہ اس منصوبے کو کامیابی ہی حاصل ہو سکے۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »