تازہ ترین
کیوی وزیر اعظم نے کورونا کے باعث اپنی شادی ملتوی کر دیرضوان آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹر آف دی ایئر قرارمسلم عقیدے کے سبب وزارتی ذمہ داریوں سے فارغ کیا گیا: برطانوی رکن پارلیمنٹمارٹرگولہ پھٹنے سے 4 افراد جاں بحقاغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث جعلی کسٹم انسپکٹرگرفتارنوازشریف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ 100 فیصد عمران خان کا تھا: اسد عمر29واں آل پاکستان شوٹنگ بال ٹورنامنٹ کا آغاز:70ٹیموں مد مقابل ہیںایلون مسک دماغی چپ کی انسانی جانچ کے قریبسندھ پولیس کے پاس واٹس ایپ کال ٹریس کرنے کی ٹیکنالوجی موجود نہ ہونے کا انکشافپپدریائے سندھ کی 3 ڈولفنز کو سیٹلائٹ ٹیگس لگاکر دریا میں چھوڑ دیا گیاصدارتی نظام کا شوشہ حکومتی ناکامی اور مہنگائی سمیت عوام کے سلگتے مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، محمد حسین محنتیایک ہفتے میں 24 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی شرح 19.36 فیصد پرآگئیلمس: ملازمین کے کاموں میں سکندر جونیجو، سرفراز میمن ودیگر رکاوٹ اور بلیک میلنگ کر رہے ہیں: قلندر بخش بوزدارکراچی کی ضروریات کونظراندازکرنا کمزورمعیشت سے کھیلنے کے مترادف ہے، میاں زاہد حسینشرمیلا کی والدہ سے کیا ان کے بینک اکاؤنٹس کا پوچھتی؟ نادیہ خانڈکیتی کے کیس میں شوہر کے سامنے خاتون سے زیادتی کا بھی انکشافلاہور: انار کلی بازار دھماکے کیلئے کتنے دہشتگرد آئے؟ تفصیلات سامنے آ گئیںگرل فرینڈ کی ماں کو گردہ عطیہ کرنے والے شخص کو دھوکا، لڑکی نے کسی اور سے شادی کرلیبھیک مانگنے والی لڑکی پر دکاندار نےگرم گھی پھینک دیاجماعت اسلامی کی جانب سے لاہور بم دھماکے کی مذمت

گیس کی قیمت میں مزید اضافہ معیشت کے لئے نقصان دہ ہو گا: میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ صنعتی شعبہ پر ٹیکسوں کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ ملکی ترقی کے عمل میں رکاوٹ نہ آنے پائے۔ بعض صنعتی شعبوں کے مطابق ان پر عائد ٹیکس منافع سے زیادہ ہےں جو انکے لئے ناقابل برداشت ہیں۔

میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ٹیکسوں کی وجہ سے آٹو موبائل سیکٹر مشکلات کا شکار ہے اور اسکی پیداوار میں زبردست کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس شعبہ کا دعویٰ ہے کہ ملک میں فروخت ہونے والی کاروں کی قیمت میں38 سے 40فیصد تک حصہ ٹیکس کا ہوتا ہے جو ضرورت سے بہت زیادہ ہے۔دو سال قبل جو کار 16لاکھ میں فروخت ہو رہی تھی اس پر35 فیصد ٹیکس عائد ہوتا تھا، جو پانچ لاکھ ساٹھ ہزار روپے بنتا ہے اب وہی کار23لاکھ کی ہو گئی ہے اور اس پر 9 لاکھ20 ہزار ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے مگر اس سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ کاروں کی طلب میں زبردست کمی کی وجہ سے پیداوار میں40فیصد تک کمی آ چکی ہے۔

اگر اس شعبہ پر ٹیکس کم کر دئیے جائیں تو کاروں کی قیمت کم ہو جائے گی جس سے انکی طلب بڑھ جائے گی،ساتھ ہی پیداوار، روزگار اور محاصل بڑھ جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ سیمنٹ سیکٹر پر بھی ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہے۔ سیمنٹ کی ایک بوری پر 148روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ سیمنٹ تیار ہونے کے بعد بھی اس پر100 روپے کا خرچہ آتا ہے جس میں ٹرانسپورٹیشن، ڈیلر کمیشن اور ریٹیلر کا منافع شامل ہے۔

سیمنٹ مہنگا ہونے سے لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرنے والی اور درجنوں صنعتوں کو رواں رکھنے والی کنسٹرکشن انڈسٹری کو دھچکا لگا ہے۔

اسکے علاوہ بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ گیس کے شعبہ میں 181 ارب روپے کے گردشی قرضہ کے خاتمہ کے لئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر غور جاری ہے جس سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو جائے گا جو صنعتی شعبہ کی مشکلات بڑھا دے گا۔

گیس کے ذخائر میں سالانہ7 فیصد کمی آ رہی ہے مگر ایل این جی کی درآمد میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور اسکی قیمتوں میں مزید اضافہ سے اسکی طلب مزید کم ہو جائے گی جو اس شعبہ میں کی گئی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو خطرات سے دوچار کر دے گی۔

انھوں نے کہا کہ فرٹیلائیزر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے اسکا استعمال کم ہو جائے گا،زرعی شعبہ پر منفی اثرات مرتب ہونگے اس سے نمٹنے کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات کئے جائیں۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »