تازہ ترین
ٹرک سے 400 کلو سے زائد چرس بر آمد، ملزم گرفتارافسران کے تبادلے کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ کی افسران کو چارج نہ چھوڑنے کی ہدایتعمران خان کی حکومت گرانے کیلیے تمام آئینی وقانونی راستے اختیار کرینگے، پیپلز پارٹیطالبان نے بدھا مجسموں کی جگہ اور قدیم یادگاروں کو سیاحت کیلئے کھول دیاروپے کی قدر میں زبردست کمی کے باوجود درآمدات بڑھ رہی ہیں، میاں زاہد حسینعاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن نے نوازشریف کی تقریر پرحکومتی تنقید مسترد کردیائیرپورٹ پر مسافر کے بیگ سے کروڑوں روپے کی ہیروئن برآمدکراچی سمیت سندھ میں سی این جی اسٹیشنز کو ڈھائی ماہ کیلئے کی فراہمی بندججز کے سیمینار میں چیف گیسٹ اسے بلایا گیا جسے سپریم کورٹ نے سزا دی: وزیراعظمیو اے ای میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئیآڈیو لیک: فرض کریں ٹیپ درست ہے تو اصل کلپ کس کے پاس ہے؟جسٹس اطہر من اللہ’کورونا کے نئے ویرینٹ کا علم نہیں، تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں‘عمران خان کو نوجوان اقتدار میں لائے تھے وہی بھگائیں گے، سراج الحقاومی کرون سے متاثرہ مریضوں میں معمولی علامات ہیں، جنوبی افریقا میڈیکل ایسوسی ایشنمال و دولت نہیں بلکہ تعلیم سب سے بڑی نعمت ہے، محمد حسین محنتیحکومت نے آئی ایم ایف شرائط کے تحت منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیااین اے 133 ضمنی الیکشن: ووٹرز سے قرآن پر حلف لیکر ووٹ خریدنے کے الزاماتگرین لائن منصوبہ کب آپریشنل ہو گا؟ اسد عمر نے کراچی والوں کو خوشخبری سنا دیمال دولت نہیں انسان کے اندر غیرت ضروری ہے، وزیراعظماومی کرون وائرس کا خدشہ: سندھ میں بوسٹر ڈوز لازمی قرار

سمندر میں 4 روز تک بھوک پیاس سے نڈھال 60 سالہ شخص کو بچا لیا گیا

سنگاپور سٹی: سنگاپور میں غوطہ خوری کا ایک استاد مسلسل چار روز سمندر میں گزارنے کے باوجود معجزانہ طور پر زندہ رہا اور اس دوران اس کے پاس کھانے اور پینے کو کچھ بھی موجود نہ تھا۔

چار مئی کو 60 سالہ اسکوبا ڈائیور استاد جان لو جنوبی چین (ساؤتھ چائنا) کے سمندر میں تائیومان جزیرے کے قریب اسکوبا ڈائیونگ کی تیاری کررہے تھے کہ ان کی کشتی الٹ کر ڈوب گئی۔ اس کے بعد انہوں نے کمر پر موجود بیگ پیک سے جان بچانے والا ربڑ کا ٹائر نما لائف بوائے نکالا اور تیرکر اس کے سہارے کنارے تک پہنچنے کی کوشش کی۔

لیکن دوسری جانب تیز موجوں نے اسے کنارے سے دور رکھا، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ساحل نگاہوں سے اوجھل ہوگیا اور ان کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اگلے چار روز اور تین راتوں تک وہ سمندری موجوں کے رحم وکرم پر ادھر ادھر تیرتے رہے اور اس دوران ان کے پاس کھانے اور پینے کو کچھ بھی نہ تھا۔
اپنی پریشانی دور کرنے کے لیے انہوں نے لائف بوائے کو فرضی دوست بناتے ہوئے اس سے بات کرنی شروع کردی اور کلائی کی گھڑی کو بھی دوست بنالیا۔

صرف چار روز میں ہی ان کی جلد دھوپ اور کھارے پانی سے جھلس گئی اور جب انہیں بچایا گیا تو ان کی جلد کے ٹکڑے اترنے لگے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے کپڑے نازک جلد سے رگڑ کر شدید تکلیف کی وجہ بن رہے تھے اور انہوں نے اپنے سارے کپڑے اتار دیئے تھے۔

چوتھی رات کو قریب سے ایک بحری جہاز گزرنے لگا جس نے جان لو کو پانی سے نکال لیا اور اس طرح ان کی جان بچائی گئی۔

About قومی مقاصد نیوز

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »