تازہ ترین
آڈیو لیک معاملہ، قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات نے ثاقب نثار کو طلب کرلیاالیکشن کمیشن کا ووٹ چیک کرنیوالی ایس ایم ایس سروس مفت کرنے کا فیصلہٹی ایل پی کے سربراہ کا آئندہ الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا اعلانہم سندھ میں بلدیاتی انتخابات مارچ 2022 چاہتے ہیں، مردم شماری پر ہمارے آج بھی تحفظات ہیںسندھ ہائیکورٹ نے فریال تالپورکوبیرون ملک جانے کی اجازت دے دیپولیس اہلکار کا گھر پر حملہ، خاتون سے اہل خانہ کے سامنے زیادتیکراچی: نسلہ ٹاور کے باہرمتاثرین اور بلڈرز کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگپاکستان عالمی مالیاتی ادارے کے نرغے میں پھنس چکا ہے، میاں زاہد حسینپاک بنگلادیش ٹیسٹ کے دوران اسٹیڈیم کے باہرآتشزدگی، دھواں گراؤنڈ میں داخلپیٹرول پر تمام ٹیکس ختم کردیے، تیل کی قیمت میں کمی کا سب فائدہ عوام کو دینگے‘ملک میں گیس کا بحران سنگین، شہریوں کیلئے روز ہوٹل سے کھانا خریدنا مشکل ہو گیابھارت نے پاکستان سے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگ لیحکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے پر پیٹرولیم ڈیلرز نے ہڑتال ختم کردیمہنگی بجلی، قلت کےساتھ مہنگاپیٹرول پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کے تحفے ہیں، بلاولپیٹرول کتنا مہنگا ہونے والا ہے؟ بری خبر آگئیعدلیہ کو بدنام کرنے کا الزام، مریم اور شاہد خاقان کیخلاف درخواست پر سماعت کل ہوگیبلاول بھٹو زرداری سے پاک افغان امور پر برطانوی وزیراعظم کے نمائندے نائجل کیسی کی ملاقاتسراج الحق کی افغانستان کے وزیرپٹرولیم اور مذکراتی ٹیم کے رکن ملا شہاب الدین دلاور سے ملاقات کیسندھ میں آٹے کی کوئی کمی نہیں ہےروٹیشن پالیسی: وزیراعلیٰ سندھ جزوی طور پر افسران کے تبادلوں پر رضامند ہوگئے

عالمی ادبی تنظیم الفانوس کی ایوراڈ تقریب

کسی بھی تخلیق کار کی تخلیق کا سب سے بہتر اعتراف یہ ہے کہ اُسے ایوارڈ دیا جائے۔ یہ سلسلہ ساری دنیا میں جاری ہے۔ عالمی ادبی تنظیم الفانوس پاکستان نے بھی گزشتہ دنوں 2018میں اشاعت پذیر کتب اور مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر قلمکاروں اور فنکاروں کو ایوارڈ دینے کے لیے چیمبر آف کامرس گوجرانولہ کے دیدہ زیب ہال میں پُروقار تقریب کا اہتمام کیا۔ اس تقریب کی صدارت مایہ ناز شاعر جان کاشمیری نے فرمائی۔نظامت کے فرائض علی احمد گجراتی نے خوبصورت انداز میں ادا کیے۔ تقریب سے پہلے ہی ہال پاکستان کے چاروں صوبوں سے تشریف لائے ہوئے مہمانان سے بھر گیا تھا۔الفانوس کے چیئرمین شہباز ساحر کے سحر میں تخلیق کار شاد نظر آ رہے تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت شہزاد مغل عجمی نے حاصل کی،حسین مدنی نے مکرم حسین کی تخلیق کردہ نعت پیش کی۔ایوراڈز کو مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔ اردو شاعری میں غزل اور نظم، پنجابی شاعری، نثری کتب، تحقیقی کتب، ادبی خدمات، جیوری اراکین اور فنکاروں کو ایوارڈز عطا کیے گئے۔کتب و رسائل پر 52، ادبی خدمات پر 12،منصفین 03، اعترافِ فن 03اور مہمانانِ گرامی کو 10ایوارڈز دئیے گئے۔ عقید ت ایوارڈز کے شعبے میں بلال رشید کی کتاب مرج البحرین اول ، پروفیسر تفاخر محمود گوندل کی کتاب تقدیس کو دوم، ڈاکٹر مشرف انجم کی کتاب حمدیہ تروینی کو سوم ا یوارڈز دئے گئے۔ اردو غزل کے شعبے میں سعید اشعر کی کتاب میری غزل کو اول، علی حسن عابدی کی آیت عشق کو دوم ، سید کامی شاہ کی کتاب قدیم سوم اور رفیق لودھی کی کتاب تراخیال اور میں کو سوم ایوارڈز دیا گیا۔ نثری ادب میں صفیہ انور صفی کے ناول رودادِ زیست کو اول، علی رضا لنگاہ کی کتاب رشتہ کو دوم، محمد مجیب احمد کی کتاب کوئی چارہ ساز ہوتا کو سوم ایوارڈز دیا گیا۔ پنجابی شاعری میں مزمل حسین ناطق بلوچ کی کتاب اندر مچیاں اگاں کو اول پروفیسر صغیر تبسم کی کتاب جیوندیاں مردیا ں آساں دوم،ندیم افضل ندیم کی کتاب پکیاں تھاواں سوم، تحقیق میں شاعر صدیقی کی کتاب میرے ہمدم میرے دوست اول، پروفیسر علی حسن مظفر کی کتاب قرآن اور کائناتی علوم دوم، فرخندہ رضوی خندہ کی کتاب قلم خندہ سوم،ابو طلحہ محمد یونس کی کتاب مدینہ منورہ سے ایک خط سوم، اعزازی ایوارڈصائمہ یاسمین کی کتاب مہکار مدینے کی،محمد نعیم اختر ندائے عقیدت، روبینہ ممتاز کی کتاب مسکراتی تلخیاں،سید عظیم واسطی کی کتاب خس و خاشاک، ڈاکٹر یٰسین اکھیاں کی کتاب خوشبو بولتی ہے، سعید اشعر کی کتاب ایلیا حسن تم کیسے ہو، پروفیسر قیصر ہاشمی کی کتاب رشتہ تو اعتبار ہوتا ہے، روبینہ ممتاز روبی کی کتاب روبی، قیصر ہاشمی کی کتاب سدھراں لیراں لیراں، وقاص مجددی کی کتاب سوچاں سوچیں پئیاں،ریاض راہی کی کتاب ویلے دی مٹیار، محمد ساجد کی کتاب لاہور میں محبت، ڈاکٹر محمد ایوب کی کتاب سوہنے ماہی دے دیس ول، عبدالرحیم عزم کی کتاب احساس، محمد ساجد کی کتاب کاہنہ کہانی،قیصر دلاور جدون کی کتاب حسن ابدال کے صاحب کتاب، حمیرا جمیل کی کتاب بیانِ اقبال، زاہد اقبال بھیل کی کتاب فضائل التسمیہ والحمد،عشرت رومانی کی کتاب دی ٹو لائٹ ائیر ، ڈاکٹر محمد ایوب کی کتاب فن و شخصیت شریف فیاض،مشتاق دربھنگوی کی کتاب گوش بر آواز،جان کاشمیری ادبی خدمات اور منصف ، دلشاد احمد ادبی خدمات اور منصف، محمد ایوب صابر ادبی خدمات اور منصف،ادبی تنظیموں نیازمندان کراچی رونق حیات، ادبی خدمات جگنو انٹرنیشنل لاہور ادبی ایم زیڈ کنول،ادبی خدمات سوچاں دی مہکار آصف علی علوی،ادبی خدمات د ل دریا پاکستان، ادبی خدمات قلم قافلہ گُل بخشالوی، ادبی خدمات عالمی ادب اکادمی عرفان خانی،ادبی خدمات الفانوس بلوچستان شیخ فرید،ادبی خدمات انجمن ادریسیہ سلیم شہزاد، ادبی خدمات ذاکر حسین ضیائی، ڈاکٹر محمد ایوب تحقیق گوجری زبان، عاصم انیس مغل مہمان خاص،اقرار مصطفی مہمان ذی وقار،راناشہزاد حفیظ مہمان ذی وقار،محمد برہان مہمان ذی وقار، محمد اسلم چودھری مہمان ذی وقار،افتخار شاہد مہمان ذی وقار،شاہد محمود شاہ مہمان ذی وقار، آغا نور محمد پٹھان مہمان ذی وقار، محمد اسلم مہمان توقیری، اعظم طفیل مہمان توقیری، نوائے منزل لاہور، اجمال کراچی، ارتفاع حیدر آباد، ادب لطیف لاہور، لوح ادب کراچی، زاویہ نگاہ کراچی، انٹر ایکشن کراچی، انشاء حیدر آباد، محمد افضل راہی اعترافِ فن، ادبی تنظیم تکوین گوجرانوالہ، انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ کو ایوارڈز عطا کیے گئے۔اس کے علاوہ تابش سیالوی مکرم حسین اعوان،علی ہاشمی،نوشین حسین نوشی، رانا وسیم اشرف کی خصوصی شرکت نے محفل کو رونق افروز کیا۔ اس موقع پر گُل بخشالوی نے اپنی ذاتی لائبریری کا ایک حصہ الفانوس لائبریری کو تحفہ کر دیا۔ اس طرح یہ یادگار اور شاندار ایوارڈ تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔ تمام ایوارڈ یافتگان چہروں پر مسرت کے جذبات لیے شہباز ساحر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے روانہ کیے۔

از قلم آغا نور محمد پٹھان

About Niaz Khokhar

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*

Translate »