[pj-news-ticker]

بلاول کی زیرِ قیادت میں کاروانِ بھٹو خیرپور پہنچ گیا شاندار استقبال

نوابشاہ / نوشہروفیروز / سکھر/ شکارپور / لاڑکانہ:  پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ قیادت کاروانِ بھٹو اپنے سفر کے دوسرے دن نوابشاہ سے شروع ہوا، جو بالائی سندھ کے اضلاع نوشہروفیروز اور سکھر، شکارپور کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا آج رات گئے اپنی منزل لاڑکانہ پہنچے گا۔

کراچی سے بروز منگل بذریعہ ریل روانہ ہونے والا کاروان نے اپنے شیڈول کے مطابق منگل اور بدھ کی رات دیر سے نوابشاہ پہنچ کر پڑاوَ کیا اور وہیں سے آج (بدھ) دوپہر اپنے دوسرے اور آخری دن کے سفر کا آغاز کیا۔ نوابشاہ جنکشن پر ہزاروں کی تعداد میں کارکنان و عوام نے بلاول بھٹو زرداری کو نعروں کی گونج میں لاڑکانہ کے لیئے روانہ کیا۔ کاروان میں پی پی پی سندھ کے صدر نثار احمد کھڑو، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، نفیسہ شاہ، سعید غنی، وقار مہدی، سردار شاہ، مرتضیٰ وہاب، راشد ربانی، مکیش چاولہ، غلام قادر چانڈیو، حاجی علی حسن زرداری، ذوالفقار بیھن، شگفتہ جمانی، ڈاکٹر مہرین بھٹو، ممتاز چانڈیو، فیروز جمالی، شہناز انصاری اور دیگر رہنما بھی پارٹی چیئرمین کے ہمراہ تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے عوام کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فرزند ہیں، اور انہیں کی طرح وہ بھی عوامی حقوق پر کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹس بند ہونے کے باعث وہ بذریعہ ٹرین لاڑکانہ جا رہے ہیں تاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 40 ویں برسی کے موقعے پر ان کی خدمات و قربانیوں کے شایانِ شان خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ برسی کے دن گڑھی خدابخش میں تاریخی جلسہ عام ہوگا، عوام اس میں بھرپور شرکت کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیرجمہوری قوتیں سمجھتی تھیں کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کرکے پیپلز پارٹی کا خاتمہ کردیں گی۔ نوابشاہ سے روانگی کے بعد دوَڑ، پڈعیدن، محراب پور، رانیپور اور خیرپور پہنچنے پر مذکورہ شہروں اور ان کے مضافاتی علاقوں کے عوام بلاول بھٹو زرداری کا استقبال کرنے کے لیئے ریلوے اسٹیشنز پر امڈ آئے اور وہاں تِل دھرنے کی جگہ بھی نہ رہی۔

بلاول بھٹو زرداری نے مختلف شہروں میں اپنے خطاب میں وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی زدہ حکومت نے اقتدار کی خاطر عوام کے ووٹ چوری کیئے۔ نیازی سرکار نے آتے ہی سندھ کا پانی اور گیس بند کردیئے ہیں۔ ساری دنیا کو چور کہنے والے سلیکٹڈ وزیراعظم نے سندھ کے 120 ارب پر ڈاکہ ڈالا ہے، جو صوبے کی عوام کے ٹیکس کے پئسے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام کے حقوق کی بات کرو تو نیب گردی شروع کردی جاتی ہے، لیکن جھوٹے کیسز کے ذریعے ہماری زبان بندی کا بندوبست کرنے والے منہ کی کھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب ضرور ہونا چاہیئے، لیکن باشعور عوام احتساب کے نام پر سیاسی انتقام قبول نہیں کریں گے۔ سیاسی انجنیئرنگ کے لیئے مشرف کے بنائے ہوئے نیب قوانین کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔ ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے، جس کے قوانین تمام پاکستانیوں کے لیئے یکساں ہوں، جو دورانِ احتساب لاڑکانہ اور لاہور کی بنیاد پر امتیاز نہ برتے۔ جج، جرنیل اور سیاستدان کا ایک ہی قانون کے تحت احتساب کرے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا سلیکٹڈ وزیراعظم کی سیاست نیب سے شروع اور نیب پر ہی ختم ہوتی ہے، لیکن جب خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کے کرپٹ لوگوں سے حساب مانگا گیا تو صوبائی احتساب کمیشن کو ہی ختم کردیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہمیں بتایا جائے کہ بے نامی وزیراعظم اور علیمہ باجی کا احتساب کب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ باجی اپنی سلائی مشینیں سندھ کی غریب خواتیں کو بھی دیں تاکہ وہ بھی نیوجرسی میں عمارتیں خرید سکیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ انسانی بنیادوں پر رہائی ملنے پر میاں صاحب کو مبارکباد دیتے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو سندھ آئیں، ہم ان کا اعلاج بھی کرائیں گے اور خدمت بھی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کا نام بھی ای سی ایل سے نکالا گیا ہے۔ این آر او نہیں ہوگا کی رٹ لگانے والے اب یوٹرن لے رہے ہیں۔ نیازی صاحب، آپ کے سارے وعدے جھوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر کہاں ہیں؟۔ عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہی ہے، لیکن سلیکٹڈ حکومت عوام کی مشکلاتیں بڑھانے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتی۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وزیراعظم ہاوَس سے چیخیں آرہی ہیں، لیکن خان صاحب! آپ گھبرائیں نہیں، ہم آپ کی حکومت نہیں گرائیں گے۔ درِیں اثناء، کاروانِ بھٹو کا استقبال کرنے کے لیئے شیڈیول میں شامل ریلوے اسٹیشنز پر صبح ہی سے عید کا سماں بندھا رہا اور جیالوں و عوام کے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ لوگ بے صبری سے بلاول بھٹو زرداری کو دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کا انتظار کر رہے تھے۔

About Niaz Khokhar

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*